ایف پی سی سی آئی اور سمیڈا کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ویمن انٹرپنیورشپ ڈے کی تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
ایف پی سی سی آئی اور سمیڈا کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ویمن انٹرپنیورشپ ڈے کی تقریب کا انعقاد WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز
اسلام آباد:ایف پی سی سی آئی اور سمیڈا کے زیر اہتمام انٹرنیشنل ویمن انٹرپنیورشپ ڈے کی تقریب کا انعقاد کیا گیا،
تقریب میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان، صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ، سمیڈا حکام نے شرکت کی ،
تقریب میں نائب صدر ایف پی سی سی آئی قراۃ العین، طارق جدون، چئیرمین کیپٹل آفس کریم عزیز ملک، چئیرمین کوآرڈینیشن و صدر حافظ آباد چیمبر ملک سہیل حسین و دیگر نے شرکت کی ۔
صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین صرف معاشی منظرنامے میں شریک نہیں بلکہ وہ انوویشن اور پائیدار ترقی کے پیچھے محرک قوت ہیں، ہارون اختر خان کا ویژن اور سپورٹ ایس ایم ایز اور بزنس سیکٹر میں خواتین کو بااختیار بننے کیلئے حوصلہ دیتا ہے، خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے نائب صدر قراۃ العین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان اپنی نصف آبادی کو پیچھے چھوڑ کر ترقی نہیں کر سکتا،
صدر ایف پی سی سی آئی نے کہا کہ ہماری معیشت کا مستقبل اور پائیدار ترقی خواتین کی متحرک شرکت پر منحصر ہے، آج خواتین کی زیر قیادت کاروبار صنعتوں کو تبدیل کر رہا ہے، چیلنجز کے باوجود پاکستان میں کاروباری خواتین رکاوٹوں کو توڑ کر روزگار پیدا اور برانڈز ڈویلپ کر رہی ہیں، ایف پی سی سی آئی سمیڈا کے اشتراک سے خواتین انٹرپنیوشپس کی کیپسٹی بلڈنگ اور ٹریننگ کیلئے پرعزم ہے،
سی ای او سمیڈا مس نادیہ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کے ذریعے خواتین کو معاشی بااختیار بنانے کیلئے پرعزم ہے، خواتین کو قرضوں کی فراہمی اور اسکلز ڈویلپمنٹ کے ذریعے معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکتا ہے،
تقریب سے وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت ہارون اختر خان نے خطاب میں کہا کہ وفاقی حکومت خواتین کے مسائل حل کرنے اور سہولیات فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے، حکومت سمال انٹرپرائز کے ذریعے خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کیلئے کام کر رہی ہے، پاکستان کی پچاس فیصد سے زائد آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم صرف اپنی پچاس فیصد ورک فورس کے ذریعے کام کر رہے ہیں، دنیا بھر کی تمام بڑی ائیر لائنز میں خواتین کام کر رہی ہیں، خواتین متحرک کردار کے ذریعے معاشی ترقی کے سفر میں اپنا حصہ ڈالیں،
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآزاد جموں کشمیر کی 18 رکنی کابینہ نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھالیا سونے کی قیمت میں بہت بڑی کمی ریکارڈ؛ فی تولہ کتنے کا ہوگیا؟ پہلے سیکیورٹی پھر تجارت، پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی پہلے سکیورٹی پھر تجارت، پاکستان نے افغان سرحد غیر معینہ مدت کیلئے بند کر دی حکومت کا پیٹرول پرلیوی میں ایک روپے 60پیسے فی لیٹر کا اضافہ پنجاب حکومت کا کرشنگ میں تاخیر کرنے والی شوگر ملز کے خلاف کریک ڈاون کا فیصلہ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر صدر گڈز ٹرانسپورٹ الائنس کا بڑا اعلان سامنے آ گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ایف پی سی سی ا ئی سمیڈا کے
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز