ملازمت پیشہ خواتین کو ہراسانی،آگاہی سے متعلق تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251117-11-7
نواب شاہ (نمائندہ جسارت) صوبائی محتسب سندھ برائے خواتین کو ہراسانی سے تحفظ کی ریجنل آفس شہید بینظیر آباد کی جانب سے خواتین کو کام کی جگہ پر ہراسانی سے بچاو? کے حوالے سے ایک روزہ آگاہی و تربیتی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں ریجنل ڈائریکٹر محتسبِ اعلیٰ شہید بینظیر آباد خان محمد زرداری نے مہمانِ خصوصی کے طور پر شرکت کی جبکہ مختلف سرکاری محکموں کے افسران، خواتین عملہ، سول سوسائٹی کی نمائندہ خواتین اور طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔سیشن کی صدارت فیض رسول شاہ راشدی (ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج و کنسلٹنٹ صوبائی محتسب ریجنل آفس شہید بینظیر آباد) نے کی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل ڈائریکٹر خان محمد زرداری نے کہا کہ خواتین کے ساتھ ہراسانی ایک سنگین سماجی و اخلاقی جرم ہے، جس کے خاتمے کے لیے قانون پر عملدرآمد اور آگاہی دونوں ضروری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی محتسب ادارہ اس حوالے سے نہ صرف شکایات کے ازالے کے لیے متحرک ہے بلکہ عوامی آگاہی اور تربیت کے پروگرام بھی جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ خواتین اپنے حقوق سے بخوبی واقف ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ محتسب دفاتر عوام کے لیے کھلے ہیں اور خواتین کو ہراسانی یا امتیازی سلوک کی صورت میں بلا خوف و جھجک شکایت درج کرانی چاہیے تاکہ انہیں فوری انصاف فراہم کیا جا سکے۔ اس موقع پر فیض رسول شاہ راشدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہراسانی کے خلاف قانون 2010 اور اس میں 2022 کی ترامیم نے خواتین کو قانونی طور پر مضبوط تحفظ فراہم کیا ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ادارے پر لازم ہے کہ وہ انکوائری کمیٹی تشکیل دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔