پاشاگل کے 23ویں یوم شہادت پر تقریب کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اسٹیل لیبریونین پاسلو، دی آرگنائزیشن آف پاکستان اسٹیل آفیسرز ٹاپس کے سابق جنرل سیکرٹری اور نیشنل لیبر فیڈریشن کے مرکزی آرگنائزنگ سیکرٹری پاشا احمد گل کے تیئسویں یوم شہادت پرپاکستان ورکرز ٹریننگ اینڈ ایجوکیشن ٹرسٹ کے تعاون سے ’’پاشا احمد گل مزدور تحریک کا لازوال کردار‘‘ کے عنوان سے مقامی ہال میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پاکستان اسٹیل کے سابق ملازمین، احباب اور اہل خانہ نے بہت بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب کے مہمان خصوصی منعم ظفر امیر جماعت اسلامی کراچی تھے، مقررین نے اپنی تقاریر میں پاشا گل کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مزدور تحریک میں ان کی بے مثال خدمات پر روشنی ڈالی، منعم ظفر نے اپنے خطاب میں کہا کہ صنعتی اداروں میں باصلاحیت افراد کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے، جو اسلامی تحریک اور اس کے نظریات کے فروغ میں اپنا کردار اداکریں اور پاشا گل کی جدوجہد اور کردار اس مشن کے تکمیل کی ایک روشن مثال ہے، وہ مزدور تحریک کی جان اور درخشندہ ستارہ تھے، ان کی شہادت اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ اسلامی تحریکوں سے وابستہ افراد نے ہمیشہ مقاصد کے حصول کی راہ میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے، انہوں نے اس بات کو بھی ثابت کردکھایا کہ عقیدے کی بنیادپر قربانی تو دی جاسکتی ہے سر نہیں جھکا یا جاسکتا۔
منعم ظفر نے مزدور اور کسان کی بے لوث جدوجہد کوبھی اُجاگر کرتے ہوئے کہاکہ وہ ملکی معیشت کی ترقی میں اہم کردار کرتے رہے ہیں مگر بے تحاشہ سیاسی بھرتیوں اور انتظامیہ کے غلط فیصلوں کے باعث اس طبقے کی کوششوں کومسمار کرکے نجکاری کی کھیل کھیلا جاتا ہے۔ مہمان خصوصی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آپ عمر کے جس حصے میں بھی ہوں تحریک اسلامی سے وابستہ رہیں، اس لیے کہ نظریے کے ساتھ کمنٹمنٹ کرنے والوں کو اللہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔ پروگرام کی آرگنائزنگ کمیٹی کے کنوینر اور پاسلو یونین کے سابق صدرزاہد عسکری نے شہید پاشا گل کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1978 میں تحریک اسلامی کے حوالے سے اسٹیل مل میں ٹریڈ یونین کا قیام مشکل کام تھا۔ پاسلو نے اپنے قیام کے بعد طویل جدوجہد کی، دو شاندار معاہدے کیے، جن میں گلشن حدید ہاؤسنگ اسکیم میں مالکانہ حقوق پر تیار شدہ مکانات کا حصول ایک تاریخی کارنامہ تھا، جو پاکستان کے کسی اور صنعتی ادارے میں آج تک نہیں ہواہے۔تقریب سے پاشا گل کے بڑے بھائی غلام محی الدین، صاحبزادے عمار گل، نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے سینئر نائب صدر ظفر خان، ٹاپس کے صدر حسین احمد زیدی، پاسلو یونین کے صدرعاصم بھٹی،ٹاپس کے سابق صدر حاجی خان لاشاری، پیاسی یونین کے سابق رہنما چوہدری اشرف، پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اسٹاف یونین کے سابق رہنما خالق عثمانی،کراچی شپ یارڈ شمع یونین کے سابق رہنما نسیم احمد، پاشا گل کے دوست و ساتھی غلام سرور کھوسو، فدا محمد، عشرت رضوی، قیصر عباس، حافظ عبدالقیوم، سلمان صابر اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ پروگرام کے اختتام پر پاسلو اور ٹاپس کے مرحوم رہنماؤں خان حبیب آفریدی،محمد رحیم تھیم،شیخ عبدالوہاب،عادل خان، محمد الیاس اور شفیع الرحمن کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔
ہدایت اللہ امیری
گلزار
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یونین کے سابق ٹاپس کے پاشا گل
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔