پاکستان انٹرنیشنل اسکول جدہ (عزیزیہ) میں یادگار ری یونین تقریب
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جدہ میں پاکستان انٹرنیشنل اسکول (عزیزیہ) میں سابق طلبہ اور اساتذہ کی ری یونین تقریب منعقد ہوئی،جس میں بڑی تعداد میں شرکاء نے شرکت کر کے اسکول کے سنہری دنوں کی یادیں تازہ کیں۔ تقریب کا انعقاد پرنسپل عتیق الرحمن کی سرپرستی میں کیا گیا، جبکہ انتظامات کی ذمہ داری سابق طالب علم محمد امجد نے سنبھالی۔ تقریب کا آغاز خیرمقدمی کلمات اور قاری عبدالباسط کی تلاوتِ قرآنِ پاک سےہوا۔ تقریب دوپہر دو بجے شروع ہوئی اور نمازِ عصر کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر شرکاء نےاسکول گراؤنڈ میں پرانی یادوں کو تازہ کیا اور ساتھیوں کے ساتھ بچپن کے لمحات دہرائے۔ تقریب میں گروپ کی جانب سے دس اساتذہ کو تعریفی اسناد اور پرنسپل عتیق الرحمن کو وی ار ون شیلڈ پیش کی گئی۔ شرکاء نے اس اقدام کو اساتذہ کی خدمات کا اعتراف قرار دیا۔ یاختتامی لمحات میں جدہ کے مقامی ہوٹل میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا، جہاں تمام شرکاء نے آئندہ بھی رابطہ برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ تقریب کی نظامت محمد امجد نے کی، معاونت عبدالعزیز کریم بخش نے جبکہ میڈیا کوریج عماد سجاد، احتشام، فیصل وسیم، عبدالحفیظ، شعیب الطاف اور بلال اقبال نے انجام دیا۔ سابق طلبہ نے اپنے تعلیمی دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اسکول کی انتظامیہ اور اساتذہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کی رہنمائی کی اور زندگی میں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیا۔ کئی فارغ التحصیل طلبہ اب مختلف ممالک میں نمایاں عہدوں پر فائز ہیں، جو اسکول کے لیے باعثِ فخر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شرکاء نے
پڑھیں:
اٹلی ، دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا
اٹلی(نیوز ڈیسک)اطالوی میڈیا رپورٹس کے مطابق، اٹلی میں پولیس نے دو پاکستانی شہریوں کو چار تارکین وطن کارکنوں کے مبینہ قتل کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے جو ایک جلی ہوئی منی وین میں مردہ پائے گئے تھے۔
گاڑی جنوبی کلابریا کے علاقے میں ایک وسیع کھیتی کے علاقے میں ایک گاؤں کے قریب ایک پٹرول اسٹیشن سے ملی۔
سی سی ٹی وی امیجز میں دیکھا گیا کہ دو افراد وین کے دروازے باہر سے روک رہے ہیں اور آگ لگانے کے لیے اندر مائع پھینک رہے ہیں۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے میں حالیہ مہینوں میں پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو نذر آتش کرنے کے 14 واقعات ہوئے ہیں، جہاں فارم کے کام اور رہائش کی تقسیم پر تارکین وطن کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے۔
فائر فائٹرز کو منگل کو مقامی وقت کے مطابق تقریباً 13:00 بجے (11:00 GMT) جلتی ہوئی وین کے مقام پر بلایا گیا۔
شعلوں کو بجھانے کے بعد انہوں نے اندر سے چار جلی ہوئی لاشوں کی بھیانک دریافت کی۔
دونوں مشتبہ افراد کو بعد میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے شواہد کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا۔
اطالوی میڈیا کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والا پانچواں شخص حملے میں بچ گیا ہے۔ ان کے حوالے سے بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں تین افغان اور ایک پاکستانی شامل ہے، جو تمام زراعت کا کام کرتے تھے۔
زندہ بچ جانے والے شخص نے اطالوی میڈیا کو بتایا کہ وہ ایک کھڑکی توڑ کر جلتی ہوئی کار سے بچ نکلا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں گرفتار افراد کی جانب سے گاڑی میں سوار افراد سے ٹرانسپورٹیشن کی رقم کا مطالبہ کرنے کے بعد تنازعہ پیدا ہوا تھا، جسے انہوں نے دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ مزدوروں کو علاقے کے اسٹرابیری کے کھیتوں میں ان کے کام کی ادائیگی نہیں کی گئی، حالانکہ انہیں کھانا اور رہائش فراہم کی گئی تھی۔
ان ہلاکتوں نے اٹلی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ کلابریا کے علاقائی صدر، روبرٹو اوچیوٹو نے کہا کہ حملے کی خبر “انسانیت پر یقین کو متزلزل کرتی ہے”، اور مزید کہا کہ یہ “غیر انسانی” ہے۔
اس دوران CGIL یونین کے حوالے سے اٹلی کی انسا نیوز ایجنسی نے “ہمارے دیہی علاقوں میں مزدوروں، اکثر تارکین وطن کی طرف سے برداشت کی جانے والی روزمرہ کی زندگی کی گھناؤنی حرکتوں کا مقابلہ کرنے” کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیا۔