قائد ایوان کا انتخاب :آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251117-01-12
مظفرآباد(آن لائن)آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت اپنے عروج پرپہنچ گیا ہے اورآزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج پیر کو طلب کر لیا گیا۔آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 3بجے ہوگا، جس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔پیپلز پارٹی نے وزیراعظم انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے اور وزارتِ عظمی کیلئے فیصل ممتاز راٹھور کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 27ارکان کی عددی اکثریت درکار ہے۔ذرائع کے مطابق پیپلزپارٹی کو اس وقت 37ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، پیپلزپارٹی کے 17، فارورڈ بلاک کے 11اور مسلم لیگ ن کے 9ارکان تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر رہے ہیں، جموں و کشمیر پیپلزپارٹی اور مسلم کانفرنس کی اسمبلی میں ایک، ایک نشست موجود ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 5ہے۔دوسری جانب سابق وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید بھی کابینہ سے مستعفی ہو چکے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم انوارالحق کی حکومت میں شامل ارکان کی تعداد 8رہ گئی ہے، پیپلز پارٹی کو مزید ارکان کی حمایت بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ آج کے اجلاس میں سیاسی منظر نامہ واضح ہونے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔