ایک بیان میں ڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی کا کہنا تھا کہ چیئرپرسن کی پوزیشن پر کسی کی بھی براہِ راست تقرری میرٹ پر پورا اترنے والی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور باصلاحیت خواتین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہو گی۔ اسلام ٹائمز۔ ڈپٹی اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی سعدیہ دانش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی سے "گلگت بلتستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن" کا بل حال ہی میں منظوری کے مراحل کامیابی سے طے کر چکا ہے جو خواتین کے حقوق، بااختیاری اور تحفظ کے حوالے سے ایک نہایت اہم سنگِ میل ہے۔ یہ کمیشن نہ صرف ادارہ جاتی سطح پر خواتین کے مسائل کو حل کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا بلکہ پالیسی سازی، قانون سازی اور نگرانی کے حوالوں سے بھی انتہائی مؤثر ثابت ہو گا۔ سعدیہ دانش کا کہنا تھا کہ جب کہ بل منظور ہو چکا ہے حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ چیئرپرسن کی تقرری کے عمل کو ہر سطح پر کھلا، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنائے۔ ہم حکومتِ گلگت بلتستان اور  تمام اسٹیک ہولڈرز سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر اس عہدے کا اشتہار جاری کیا جائے، میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور اس اہم ادارے میں بہترین اور اہل قیادت کو موقع فراہم کیا جائے۔ "کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن جیسا اہم ادارہ خواتین کی آواز کو مؤثر فورمز تک پہنچانے کا ذریعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چیئرپرسن کی تقرری کے حوالے سے حکومت سے مطالبہ ہے کہ پورے انتخابی و انتظامی عمل کو مکمل طور پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور قواعد و ضوابط کے مطابق یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیئرپرسن کی پوزیشن پر کسی کی بھی براہِ راست تقرری میرٹ پر پورا اترنے والی تعلیم یافتہ، تجربہ کار اور باصلاحیت خواتین کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہو گی۔ اس لیے منصب کی تقرری کے لیے اشتہار کے ذریعے اوپن پراسس اختیار کرتے ہوئے مکمل شفافیت اور میرٹ کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈپٹی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کے حقوق کے لیے قائم کیا جانے والا یہ ادارہ اپنی بنیاد سے ہی شفافیت، غیرجانبداری اور میرٹ کی مثال بنے، تاکہ آنے والے وقت میں یہ ادارہ حقیقی معنوں میں خواتین کی فلاح، ترقی اور خودمختاری کے لیے مؤثر کردار ادا کر سکے۔ آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت گلگت بلتستان کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن کے انتخاب کے تمام قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے بہترین اور قابل اُمیدوار کا تقرر کرے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کمیشن آن اسٹیٹس آف ویمن گلگت بلتستان چیئرپرسن کی خواتین کے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار