اسلام آباد، سابق وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی سوئی ناردرن کمپنی کے افسران سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
حافظ حفیظ الرحمن نے سوئی ناردرن کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو سے تین سال کے اندر یہ منصوبہ مکمل ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کو گیس کی سہولت فراہم کرے گا اور مقامی کمیونٹی کے لیے معاشی اور ماحولیاتی فوائد کا باعث بنے گا۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے اسلام آباد میں سوئی ناردرن گیس کے افسران سے اہم ملاقات کی، جس میں گلگت بلتستان میں ایل پی جی ایئر مکس منصوبے کی موجودہ صورتحال، کنکشنز کی فراہمی اور مستقبل کے اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ اس منصوبے کا بنیادی مقصد عوام کو ماحول دوست اور سستی گیس کی فراہمی ہے۔ اُن کے مطابق، اس وقت تقریباً ایک ہزار گھرانوں کو کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں اور اس سال دسمبر تک یہ تعداد دو ہزار تک پہنچ جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اگلے سال دسمبر تک آٹھ ہزار گھرانوں کو کنکشن فراہم کرنا منصوبہ بندی میں شامل ہے اور شمالی علاقوں کے مختلف ٹاؤنز میں یہ منصوبہ فعال ہو گا۔ سابق وزیراعلیٰ نے زور دیا کہ پچھلے پانچ سالوں میں کسی بھی حکومت نے اس منصوبے کی مناسب نگرانی یا جائزہ نہیں لیا اور نہ ہی کسی ماحولیاتی ادارے نے اس کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر جی ایس ٹی واپس لے لیا جائے تو یہ گیس عام صارفین کے لیے اور بھی زیادہ سستی اور قابل رسائی ہو جائے گی، جس سے ماحول دوست ایندھن کے فوائد بڑھیں گے اور گھروں کا ماہانہ خرچ کم ہو گا۔ حافظ حفیظ الرحمن نے سوئی ناردرن کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگلے دو سے تین سال کے اندر یہ منصوبہ مکمل ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کو گیس کی سہولت فراہم کرے گا اور مقامی کمیونٹی کے لیے معاشی اور ماحولیاتی فوائد کا باعث بنے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حافظ حفیظ الرحمن نے گلگت بلتستان کہا کہ
پڑھیں:
دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔
مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔