مینار پاکستان اجتماع میں سعودی عرب، فلسطین، ایران سمیت تمام اسلامی ممالک کے وفود شریک ہونگے، عبدالواسع
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر کا کہنا تھا کہ تمام تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور کارکنان کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اب تک دنیا بھر کی 130 اسلامی تنظیمیں اجتماعِ عام میں شرکت کی دعوت قبول کر چکی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا وسطی نے 21 سے 23 نومبر تک مینارِ پاکستان لاہور میں “بدل دو نظام” کے عنوان سے ہونے والے اجتماعِ عام میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کے لیے اپنی تیاریاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اس بار خیبر پختونخوا سے ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ حاضری متوقع ہے، جس میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہوگی۔ پشاور شہر کے قومی اسمبلی حلقہ این اے-32 سے عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی ٹرین 20 نومبر کو رات 7 بجے سٹی ریلوے اسٹیشن پشاور سے روانہ ہوگی۔ صوبے کے دیگر اضلاع اور حلقوں سے بھی ضلعی و مقامی امراء کی قیادت میں بسوں، کوسٹرز، ہائی ایس اور دیگر چھوٹی بڑی ہزاروں گاڑیوں پر مشتمل قافلے 20 اور 21 نومبر کو لاہور روانہ ہوں گے۔ اس امر کا اعلان امیر جماعتِ اسلامی خیبر پختونخوا وسطی عبدالواسع نے مینارِ پاکستان لاہور میں اجتماعِ عام کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ جائزہ اجلاس میں شرکت کے بعد کیا۔ وہ مرکز اسلامی پشاور میں صوبائی جنرل سیکرٹری و سابق رکنِ قومی اسمبلی صابرحسین اعوان اور نائب امیر میاں صہیب الدین کاکاخیل کے ہمراہ پشاور کے صحافیوں سے خصوصی نشست میں گفتگو کر رہے تھے۔
اس موقع پر صوبائی ڈائریکٹر میڈیا احمد فرقان خلیل، نورالواحد جدون اور ضلع پشاور کے ترجمان و سابق ناظم طارق متین بھی موجود تھے۔ عبدالواسع نے کہا کہ گریٹر اقبال پارک (مینارِ پاکستان گراؤنڈ)، بادشاہی مسجد لاہور اور اس سے متصل پارکس میں 384 ایکڑ سے زائد رقبے پر کل پاکستان اجتماعِ عام کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اجتماع کے موقع پر بیک وقت لاکھوں افراد کے لیے طعام کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ شرکاء کے لئے قیام گاہیں اور طہارت خانے قائم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بادشاہی مسجد کے غیر فعال طہارت خانوں کو بھی فعال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع نظام کی تبدیلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔ اجتماعِ عام کا بجٹ کروڑوں روپے پر مشتمل ہے، جس کے اخراجات جماعتِ اسلامی کے اپنے چندہ نظام کے ذریعے پورے کیے جائیں گے۔ اجتماع کے دوران اندرونی سیکیورٹی کا انتظام جماعت کے رضاکاروں کے سپرد کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام تیاریاں آخری مراحل میں ہیں اور کارکنان کی سہولت کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عبدالواسع نے بتایا کہ اب تک دنیا بھر کی 130 اسلامی تنظیمیں اجتماعِ عام میں شرکت کی دعوت قبول کر چکی ہیں۔ بنگلہ دیش، سعودی عرب، فلسطین، ایران، ترکی، افغانستان سمیت تمام اسلامی ممالک، نیز یورپ اور دیگر غیر اسلامی ممالک سے تعلق رکھنے والی اسلامی تنظیموں کے وفود بھی اس اجتماع میں شریک ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں اجتماعِ عام کی تیاریوں کے سلسلے میں غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں، اور توقع ہے کہ اس بار ماضی کے مقابلے میں ریکارڈ تعداد میں مرد و خواتین شرکت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی غیر معمولی دلچسپی کے پیش نظر مرکزی نظم کو آگاہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد منتظمین نے گریٹر اقبال پارک سے متصل تاریخی بادشاہی مسجد اور اس کے گردونواح میں واقع پارکس میں بھی شرکائے اجتماع کے لیے پنڈال لگانے اور انتظامات کو مزید وسیع کر دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا میں شرکت انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔