شاہین شاہ آفریدی نے کامیابی کا کریڈٹ تمام کھلاڑیوں کو دیتے ہوئے کہا کہ ایک اچھی ٹیم کی نشانی یہی ہے کہ ہر میچ میں نیا ہیرو سامنے آتا ہے، ٹیم میں تبدیلی کی پالیسی ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہورہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے سری لنکا کو تیسرے ون ڈے میں شکست دے کر سیریز میں وائٹ واش کرلیا

شاہین شاہ آفریدی نے کہا کہ ایک اچھی تبدیلی پالیسی جاری ہے اور ہر بولر کو موقع دیا جارہا ہے، جس سے ٹیم کا کمبی نیشن مضبوط ہوا ہے۔ ان کے مطابق نئے بالرز ہر میچ کے لیے تیار رہتے ہیں اور آج بھی یہی ہوا۔ انہوں نے نوجوان بولر فیصل کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بینچ پر بیٹھ کر بھی اس نے خود کو بہترین ثابت کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد رضوان نے دونوں میچز میں خود کو ثابت کیا ہے۔

دوسری جانب سری لنکن کپتان کوشل مینڈس نے اعتراف کیا کہ ان کی ٹیم کے ٹاپ بیٹرز نے اچھے آغاز کو بڑی اننگز میں تبدیل نہیں کیا جس کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں۔ انہوں نے اسپنر وینڈرسے کی بولنگ کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں مختلف بولنگ یونٹ بہتر کھیل پیش کرے گا۔

حارث رؤف میں مین آف دی سیریز قرار

سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز حارث رؤف نے حاصل کیا، جنہوں نے تین میچوں میں 9 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مشکل اوورز میں بولنگ کر کے ہی ٹیم کے لیے اثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

وسیم جونیئر مین آف دی میچ قرار

میچ کے بہترین کھلاڑی محمد وسیم جونیئر قرار پائے جنہوں نے 47 رنز کے عوض 3 وکٹیں حاصل کیں اور کہا کہ کنٹرول اور ڈاٹ بالز ہی ان کی کامیابی کی بنیاد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ، پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا

پاکستان نے 211 رنز کے ہدف کا تعاقب 32 گیندیں پہلے مکمل کیا۔ فخر زمان اور بابر اعظم کی 74 رنز کی پارٹنرشپ نے بنیاد رکھی جبکہ محمد رضوان اور حسین طلعت کی ناقابل شکست 100 رنز کی شراکت نے جیت پکی کر دی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news پاکستان شاہین شاہ آفریدی وائٹ واش.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان شاہین شاہ ا فریدی وائٹ واش کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا