Jasarat News:
2026-06-03@08:10:42 GMT

27 ویں آئینی ترامیم آئین اور جمہوریت پر شب خون

اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251117-03-6

 

قاسم جمال

 

 

۔27 ویں آئینی ترامیم کی منظوری سے ملک میں ایک نیا پنڈورا باکس کھل گیا ہے۔ اس ترمیم کو باضمیر سیاست دانوں کی جانب سے آئین اور جمہوریت پر شب خون مارے جانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کیا جارہا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے دو سینئر جج جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس منصور الحق نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ترمیم آئین پاکستان پر حملہ ہے اس ترمیم نے عدالت عظمیٰ کو ٹکرے ٹکرے کردیا ہے اور ملک کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ بلاشبہ عدالت عظمیٰ کے ان دوججوں نے استعفا دے کر اپنے باضمیر ہونے کا عملی ثبوت فراہم کیا ہے۔ جبکہ اس موقع پر خود کو جمہوری کہنے والی پارٹیوں کا طرزِ عمل غیر جمہوری رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کو کہ خود کو جمہوریت کی چمپئن کہلانے سے نہیں تھکتی تھی اس نے خود کو اسٹیبلشمنٹ کی اے پلس ٹیم ثابت کیا ہے۔ 26 ویں اور پھر 27 ویں آئینی ترامیم سے وہ قوتیں جو آئین اور جمہوریت کو یر غمال بناتی رہی ہیں وہ سب بالکل کھل کر سامنے آگئی ہیں اور سب کے سامنے بالکل عیاں ہو چکی ہیں۔

بد قسمتی سے پاکستان میں جو پارٹیاں خود کو جمہوری کہتے ہوئے تھکتی نہیں ہیں ان کا اپنا رویہ اور طرزِ عمل بھی غیر جمہوری اور جمہوریت کی نفی ہے۔ ان پارٹیوں نے ثابت کیا ہے کہ ان میں جمہوریت نہیں ہے اور نہ ان کی سیاست جمہوریت و آئین کے مطابق ہے اس وجہ سے ان قوتوں کو ہمیشہ طاقت فراہم کی جاتی ہے۔ بلاشبہ 27 ویں ترمیم غیر آئینی اور غیر شرعی ہے۔ مفتی تقی عثمانی نے بھی اسے مسترد کیا ہے اور اسے غیر شرعی قرار دیا ہے انہوں نے کہا کہ ہم اسے کلیتاً مسترد کرتے ہیں، فیلڈ مارشل اور صدر کا استثنیٰ کسی طرح بھی درست نہیں، اللہ کے رسولؐ، خلفائے راشدین اور صحابہ کرامؓ خود کو احتساب کے لیے عوام اور عدالت کے سامنے پیش کرتے تھے۔ اسلام میں اس طرح کے آئین کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

پاکستان میں آئین کا حلیہ بگاڑ نے والی پارٹیاں، خاندان وراثت اور وصیت کی بنیاد پر چلنے والی پارٹیاں ہیں، ان پارٹیوں کی پرورش آمروں کی گودوں میں ہوئی ہے اور ہر پارٹی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کا اس کے سروں پر ہاتھ ہو اور اس حمام میں سب ہی برہنہ ہیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ چند لوگوں کو عدالت سے ماوراء کرنے کے لیے دلائل پیش کررہے، نام نہاد جمہوری قوتیں زبردستی اپنی مرضی سے نظام وضع کررہی ہیں۔ آئین کی اعتبار سے صحیح معنوں میں عدلیہ آزاد ہوگی تو تمام ترامیم ختم ہوں گی۔ 27 ویں ترمیم کے ذریعے حکومت اکثریت اور عدلیہ اقلیت میں آگئی ہے۔ جس سے اپنی مرضی سے ججوں کا ٹرانسفر کردیا جائے گا۔ جب سارے راستے بند ہو جاتے ہیں تو پھر ملک میں انارکی پھیلتی ہے اور عوام کے ہاتھ حکمرانوں کی گردنوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کو چاہیے کہ وہ ہوش کے ناخن لیں ایسا نہ ہو کہ بنگلا دیش اور نیپال والے حالات پاکستان میں بھی پیدا ہو جائیں اور آپ کو اور آپ کی پوری کابینہ کو ہیلی کاپٹر بھی میسر نہ آئے۔ پاکستان کے حکمرانوں کوگزشتہ آمروں سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا اب بدل چکی ہے، جنریشن زی بڑے بڑے انقلاب برپا کررہی ہے اور ظلم کا یہ نظام اب زیادہ دیر تک نہیں چل سکے گا۔ پاکستان کے سیاستدانوں نے 1973 میں بڑی محنت کے بعد یہ آئین بنایا تھا لیکن اس میں مسلسل ترامیم کرکے اس سے کھلواڑ کیا جا رہاہے۔ پہلے 26 ویں ترمیم میں عدالتوں کو مجروح کیا گیا۔ 27 ویں ترمیم میں طاقت کے ارتکاز کو عدالت سے نکال کر شخصیات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ جو کسی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا اور اس کے ملک میں خطرناک اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کے سرحدی معاملات خوفناک صورتحال سے دوچار ہیں ایسے میں اس طرح کی تبدیلیاں ملک کو انارکی کی جانب دھکیلنے کی کوشش ہے اور ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پاکستان کے ارباب اقتدار ہوش کے ناخن لیں اور آگ سے نہ کھیلے ورنہ سب کچھ بھسم ہو جائے گا۔

قاسم جمال.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اور جمہوریت پاکستان کے ویں ا ئینی ویں ترمیم ہے اور کیا ہے خود کو

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتالیں غیر قانونی قرار؛ وفاقی آئینی عدالت کا حکم
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار