اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والے نظام کے خاتمہ کی جدوجہد، مینار پاکستان اجتماع سے ہوگی۔حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
(فائل فوٹو)
اسلام آباد:۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ستائیسویں ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرضی کے فیصلے اور عدلیہ کو کنٹرول کرنے کے لیے 26 ویں ترمیم کی گئی۔ حکمران طبقے کی لا متناہی خواہشات اور رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے 27 ویں آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے، سول اور ملٹری بیورو کریسی کے اس نظام میں پاکستان آج بھی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، ملک سے اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والے نظام کے خاتمے کی جدوجہد، مینار پاکستان اجتماع سے شروع ہوگی۔ عوام کو ترمیم کی نہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز اسلام آباد بار ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر اسلام آباد بار ایسوسی ایشن چوہدری نعیم علی گجر، سینئر ممبر اسلام آباد بار راجہ محمد اشتیاق، ممبر اسلام آباد بار کونسل آصف عرفان اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ ملکی صورتحال سے پتا چلتا ہے کہ ملک 78 سال کے بعد بھی درست طریقے سے نہیں چل رہا، پاکستان بڑی تمناﺅں سے بنایا گیا تھا، برصغیر کے ان علاقوں میں بھی پاکستان کی تحریک چلی تھی جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہو نا تھا کیونکہ صرف لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر پاکستان بنایا گیا، قائداعظم ایسا نظام چاہتے تھے جو اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق ہو، قائداعظم کی آنکھیں بند ہوتے ہی عوام کو کنفیوژ کیا جانے لگا، قرارداد مقاصد نے پاکستان کی ریاست کی سمت طے کر دی، ہمارے دستور میں حاکمیت اعلیٰ اللہ کی ہے اور اسلام کے مخالف کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں بار ایسوسی ایشنز ہی ہیں جہاں سالانہ انتخابات ہوتے ہیں، پاکستان میں سیاسی جماعتیں خود جمہوری نہیں ہیں، جماعت اسلامی کے علاوہ سیاسی جماعتوں میں انتخاب ہو تا ہی نہیں ہے، پاکستان میں عام آدمی کو 78 سال بعد بھی انصاف نہیں ملتا، موجودہ عدالتی نظام گلا سڑا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ کراچی میں بلدیاتی انتخاب ہوا جس کے لیے جدو جہد کی گئی، اس الیکشن کے خلاف ہماری پٹیشنز آج تک چل رہی ہیں، لیکن انصاف نہیں مل رہا، عدالتوں میں صرف یہ اشارہ دیکھا جا تا ہے کہ طاقتور طبقے کسے جتوانا چاہتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے استثنیٰ غیر شرعی اور غیر آئینی ہو گا اسے ہم مسترد کرتے ہیں، اسلام اور آئین میں استثنیٰ کی کوئی گنجائش نہیں، جب خلفائے راشدین عدالتوں کے سامنے پیش ہوئے توآج کے حکمرانوں کی کیا حیثیت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ حکمرانوں کو اور کیا چاہیے سب کچھ تو ان کے ہاتھ میں ہے اور مزید کتنے اختیارات چاہییں۔ موجودہ پارلیمنٹ میں اکثریت فارم 47 کے ممبران کی ہے، ہم نے غلط طریقے سے دی گئی سیٹیں ان کے منہ پر ماردیں، سیاسی جماعتیں اگر اس طرح کی سیٹیں قبول نہ کریں تو سسٹم درست ہو جائے گا، نواز شریف نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا کر 70 ہزار اضافی ووٹ قبول کرلیے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ہمارے بچوں کو تعلیم کے مساوی مواقع حاصل نہیں، پاکستان کی ضرورت تعلیم ہے۔، جماعت اسلامی کو شدیداختلاف ہے ان سے جو کہتے ہیں ہم معدنیات سے متعلق امریکا سے معاہدہ کر کے آگے بڑھ جائیں گے، آئی پی پیز کے بارے کوئی بات چیت کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن ہماری جدوجہد کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ ممکن ہوا۔ انہوں نے وکلا کو 21، 22، 23 نومبر کو جماعت اسلامی کے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اس اجتماع کو عوام کے لیے نئے ولولے کا ذریعہ بنائیں گے، اجتماع عام ایک ٹرننگ پوائنٹ ہو گا، اجتماع عام مایوسی کے اس دور میں امید کی کرن ثابت ہو گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمان نے اسلام آباد بار جماعت اسلامی پاکستان میں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :