پاکستان میں لائیو اسٹاک سیکٹر میں پیش رفت، امریکا سے درآمد شدہ مویشی پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
کلاؤڈ ایگری گروپ کے اشتراک سے امریکا سے درآمد شدہ مویشی براہِ راست پاکستان پہنچ گئے، اس اقدام سے دودھ کی پیداوار اور ڈیری مصنوعات کی برآمدات میں کثیر اضافہ ممکن ہوگا۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے گرین کارپوریٹ لائیو اسٹاک انیشیٹو کا پاکستان کے ڈیری سیکٹر کے لیے تاریخی اقدام ہے۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت سے پاکستان میں لائیو اسٹاک سیکٹر کی جدید بنیادوں پر ترقی کے اقدامات جاری ہیں۔ گرین کارپوریٹ لائیو اسٹاک انیشیٹو (جی سی ایل آئی ) جدید بریڈنگ ٹیکنالوجی، جینیاتی بہتری اور مختلف تربیتی پروگراموں کے ذریعے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ جی سی ایل آئی کے جدید سائنسی بنیادوں پر مویشیوں کی صحت، خوراک اور افزائش نسل کے عملی اقدامات جاری ہیں۔ سال 2024 میں جی سی ایل آئی کے تحت برازیل سے اعلیٰ نسل کے مویشیوں کی کھیپ پاکستان پہنچنے پر بے حد پذیرائی ملی تھی۔ ایس آئی ایف سی کی معاونت نے اس اہم منصوبے میں سرمایہ کاری اور بین الاقوامی پارٹنرشپ کو ممکن بنایا۔ یہ اقدام نیشنل ہرڈ ٹرانسفارمیشن کے تحت لائیو اسٹاک سیکٹر کے معیار کو عالمی سطح تک پہنچانے میں مثبت کردار ادا کرے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: لائیو اسٹاک
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔