پاکستان سے جنگ نہ کرنا، بھارت کو انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
ریاض احمدچودھری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سے بات کی ہے اور انہیں پاکستان کے ساتھ جنگ سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات واشنگٹن کے اوول آفس میں دیوالی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔تقریب میں بھارتی نژاد افراد کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔جوہری طاقت رکھنے والے بھارت اور پاکستان کے درمیان 10 مئی کو ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دونوں ممالک نے خشکی، فضا اور سمندر میں تمام فوجی کارروائیاں روکنے پر اتفاق کیا، یہ جنگ بندی صدر ٹرمپ کے اعلان کے تحت ہوئی تھی جس میں دونوں ممالک نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے والے تصادم کو مزید نہیں بڑھائیں گے۔دونوں ممالک کے درمیان حالیہ مختصر مگر شدید جھڑپوں میں لڑاکا طیارے، ڈرون، میزائل اور توپ خانہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرحد کے دونوں جانب تقریباً 70 افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔صدر ٹرمپ نے اس تصادم کے خاتمے کا کریڈٹ خود کو دیا ہے، تاہم نئی دہلی نے کسی تیسرے فریق کے کردار سے انکار کیا ہے اور کہا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ معاملات دوطرفہ سطح پر طے کرتا ہے۔
ٹرمپ نے اوول آفس کی تقریب میں شرکا سے کہا کہ میں نے آج آپ کے وزیرِاعظم سے بات کی، ہماری بہت اچھی گفتگو ہوئی، ہم نے تجارت کے بارے میں بات کی اور میں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ نہ ہو، میرے خیال میں چونکہ تجارتی معاملات زیرِ بحث آئے، اسی وجہ سے میں یہ بات مؤثر انداز میں کہہ سکا، اور اب بھارت اور پاکستان کے درمیان کوئی جنگ نہیں ہے، جو ایک بہت اچھی بات ہے۔گزشتہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں ایک عشائیے کے دوران ٹرمپ نے بتایا تھا کہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ان سے ملاقات کی اور جذباتی انداز میں ان کے کردار کی تعریف کی کہ انہوں نے کئی ممکنہ جنگوں کو رکوا دیا، جن میں لاکھوں جانوں کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی وزیرِاعظم نے انہیں یقین دلایا ہے کہ نئی دہلی روس سے ‘بہت زیادہ تیل’ نہیں خریدے گا، یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اور اختلافی نکتہ بن چکا ہے۔امریکا نے روسی تیل کی خریداری کے باعث بھارتی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں اس سال بھارت پر مجموعی درآمدی محصولات 50 فیصد تک پہنچ چکے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی مذاکرات کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ کے سابق جج مرکنڈے کاٹجو کا کہنا ہے کہ پاکستان سے دس دن جنگ میں ہی بھارتی معیشت کا کچومر نکل جائے گا۔ اگر بھارت پاکستان سے جنگ کرتا ہے تو معیشت بری طرح متاثر ہوگی۔بھارتی جرنیل اتنی شیخیاں مار رہے ہیں، آپ کی اتنی حیثیت نہیں ہے، بھارت جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ بھارت پہلے ہی بہت غریب ملک ہے، بھارتی جرنیل پاکستان کے ساتھ جنگ کے لیے بھارتی ٹی وی چینلز پر بکواس کر رہے ہیں، انہیں یہ بات سمجھنا ہو گی کہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں۔
واضح رہے کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد معصوم کشمیریوں کا قتل عام شروع کردیا گیا ہے، بھارتی فوج کی سفاکیت کے ناقابل تردید ثبوت سامنے آگئے ہیں۔ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں کے وحشیانہ قتل اور جعلی مقابلوں میں ملوث ہے، پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد معصوم کشمیریوں کا قتل عام شروع کیا گیا ہے۔بھارت کی مختلف جیلوں میں غیر قانونی اور جبری طور پر زیرحراست سات سو بتیس بے گناہ قیدیوں کی زندگیوں کو بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔بھارت ان قیدیوں کوجعلی مقابلوں میں دہشت گرد ظاہر کر کے شہید کرسکتا ہے یا استعمال کرکے ایک اور فالس فلیگ کاڈرامہ رچا سکتا ہے۔
29 اکتوبر 2025 کو جنوبی کوریا کے APEC اجلاس میں ٹرمپ نے کھلے عام اعلان کیا کہ انہوں نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر بھارت نے پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑی تو بھارت کو سخت ترین ٹریڈ ٹیریف کا سامنا کرنا پڑے گا۔یہ بیان بھارت کے ”ہم ذمہ دار ہیں”والے جھوٹ کو پوری دنیا کے سامنے رکھ دینے کے مترادف تھا۔ساتھ ہی، ٹرمپ نے روسی تیل درآمدات پر بھارت کو 25 فیصد سے 50 فیصد بڑہا کر سزا دی جس نے مودی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی واضع کر دی۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ‘میری بھارت کے وزیراعظم مودی سے بات ہوئی تھی، اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ روس سے تیل کی خریداری جاری نہیں رکھیں گے۔ ” اگر وہ ایسا کہنا چاہتے ہیں، تو پھر وہ بھاری محصولات ادا کرتے رہیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہیں گے۔ مودی نے انہیں یقین دلایا تھا کہ بھارت روسی تیل کی خریداری بند کر دے گا۔ٹرمپ پہلے بھی اس تشویش کا اظہار کر چکے ہیں کہ بھارت کی روسی تیل کی مسلسل درآمدات بالواسطہ طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جنگی مہم میں معاونت کر رہی ہیں۔
خیال رہے کہ نئی دہلی اور واشنگٹن کے تعلقات حالیہ دنوں میں شدید تناؤ کا شکار ہیں، کیونکہ ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر محصولات کو دوگنا کر کے 50 فیصد تک کر دیا ہے، جن میں روسی خام تیل کی خریداری کے باعث لگائی گئی اضافی 25 فیصد ڈیوٹی بھی شامل ہے۔ بھارت نے امریکا کے اس اقدام کو ‘ غیر منصفانہ، بلاجواز اور غیر ضروری’ قرار دیا تھا۔
٭٭٭
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پاکستان کے ساتھ جنگ تیل کی خریداری دونوں ممالک کے درمیان روسی تیل انہوں نے بھارت کو کہ بھارت تھا کہ نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔