ایک بیان میں چیئرمین آل کراچی تاجر اتحاد نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ علاقے میں تیس تا چالیس فیصد صارفین کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی سزا 70 فیصد بل ادا کرنیوالے صارفین کو بھی دی جاری ہے اور انھیں تمام دن بجلی سے محروم رکھا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آل کراچی تاجر اتحاد کے چیئرمین عتیق میر نے کراچی میں بجلی لوڈشیڈنگ کے بحران کو صنعتی اور تجارتی لحاظ سے تباہ کن اور معاشی ترقی میں اہم رکاوٹ قرار دیتے ہوئے حکومت سے اپیل کی ہے کہ اس کا فوری تدارک اور قابلِ قبول حل تلاش کیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی تاریخ کے بدترین بجلی کے بحران کی زد میں ہے، روشنیوں کا شہر اندھیر نگری بن گیا، طویل دورانئے کی لوڈشیڈنگ سے کاروبار شدید متاثر ہوگئے، کے الیکٹرک اور بجلی چوروں کے درمیان دھینگا مشتی کا سلسلہ جاری ہے۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی ناقابل برداشت قیمتوں اور بلوں میں شامل غیر منصفانہ ٹیکسوں کے بدترین اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، کم وسائل کے حامل صارفین کیلئے موجودہ نرخ پر بجلی کا استعمال مشکل ترین ہوگیا ہے، بھاری بلوں کی ادائیگی کی سکت سے محروم صارفین میں ناجائز کنکشنز اور کنڈوں کا استعمال بڑھ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے عملے کیلئے جس کی روک تھام ممکن نہیں رہی، اب لازم ہے کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر مہنگی بجلی کے داموں کو مناسب سطح پر لانے کے اقدامات کرے۔ انھوں نے حکومت کو یاددہانی کرواتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے پہلے حکمران عوام کو دو سو اور تین سو یونٹس مفت بجلی دینے کے وعدے کررہے تھے اب پیسوں سے بھی دستیاب نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ علاقے میں تیس تا چالیس فیصد صارفین کی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی سزا 70 فیصد بل ادا کرنیوالے صارفین کو بھی دی جاری ہے اور انھیں تمام دن بجلی سے محروم رکھا جارہا ہے۔ انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹوں میں شدید مندی کے ساتھ بجلی کی عدمِ فراہمی نے رہا سہا کاروبار بھی تباہ کردیا ہے جو کہ مجموعی ملکی معاشی صورتحال کے کیلئے انتہائی تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: نے کہا کہ انھوں نے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا