ملک بھرمیں انڈسٹریل خام مال کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا،عاطف اکرام شیخ
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن اف پاکستان چیمبر آف کامرس(ایف پی سی سی آئی) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کہا ہے کہ ملک بھرمیں انڈسٹریل خام مال کی قلت کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ،جس کی وجہ سے ایکسپورٹ متاثر ہونے کے ساتھ پیداوری لاگت میں بھی اضافے کا خدشہ ہے۔گزشتہ روزفیڈریشن ہا?س کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایف پی سی سی ائی کے صدر نے کہا کہ اس وقت ملک بھر میں اندسٹریل خام کیمیکل کی قلت کا سامنا ہے اور اس کی قیمت میں بھی تیزی سے اضافہ جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ڈینجرس پیٹرولیم ایکٹ 1937 میں صرف وہ ہی کیمیکل جس میں ہائیڈرو کاربن شامل ہے وہ اس فہرست میں آتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ اس مسئلے کو فوری حل کرے تاکہ انڈسٹری انڈسٹریل کیمیکل کو امپورٹ کرسکے۔اس موقع پرسینئرنائب صدر ایف پی سی سی ائی ثاقب فیاض مگوں نے کہا ہے کہ وہ کیمیکل جس میں ہائیڈرو کاربن شامل نہیں ہے اس کو فوری طور پر امپورٹ فہرست سے باہر کیا جائے۔حکومت جس لیبارٹری سے چاہیے ٹیسٹ کروالے ،لیکن جس میں ہائیڈرو کاربن نہ ہو اس کو فہرست سے نکال جائے۔ ثاقب فیاض نے کہا کہ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کی ہدایت پر ڈی جی ایکسپولیزو عبد العلی خان سے ملاقات ہوئی ہے۔جس میں یہ انڈسٹری ان کو ن تمام انڈسٹریل خام مال کی لسٹ دی جائے گی جس میں ہائیڈرو کاربن شامل نہیں ہے اور ساتھ ہی ان کی رپورٹس کی دی جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ ڈی پی ایل ایکٹ 1937 کے تحت جس اندسٹریل خام مال میں ہائیڈرو کاربن نہیں ہے اس کو اس فہرست میں شامل نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چیئرمین ٹینرز ایسوی ایشن حامد ارشد نے کہا کہ انڈسٹیل خام مال کی قلت سے لیدر گارمنٹس ،فٹ وئیر ،ہینڈ گلوز ،پینٹ انڈسٹری ،ٹیکسٹائل سمیت مختلف انڈسٹری میں انے والے دنوں قلت کے باعث کام رکنے کا بھی اندیشہ ہے۔ کیمیکل اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین سلیم ولی محمد نے بھی انڈسٹریل خام مال کی قلت کی وجہ سے انڈسٹریوں میں کام متاثر ہورہا ہے، ہم نے اپنے ممبران کو ہدایت کردی ہے کہ جب تک انڈسٹریل کیمیکل کو امپورٹ کی سہولت نہ دی جائے اس وقت تک کیمیکل کی امپورٹ نہ کی جائے تاکہ انہیں بھاری ڈیمرج کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جس میں ہائیڈرو کاربن انڈسٹریل خام مال کی خام مال کی قلت نے کہا کہ
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔