Jasarat News:
2026-07-24@08:23:16 GMT

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن

اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحافی سچائی کی تلاش میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں زبانی بدسلوکی، قانونی دھمکیاں، جسمانی حملے، قید، اور تشدد شامل ہیں، یہاں تک کہ کچھ صحافی تو اپنی جان تک گنوا بیٹھے ہیں، غزہ صحافیوں کے لیے کسی بھی تنازعے میں سب سے خطرناک جگہ رہی ہے۔ میں ایک بار پھر آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً دس میں سے نو صحافیوں کے قتل کے واقعات تاحال حل طلب ہیں۔ صحافیوں پر حملے انہیں تشدد کا نشانہ بنانا صرف ناانصافی نہیں بلکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہے تمام حکومتوں کو ہر کیس کی تحقیقات کرنی چاہئیں، ہر مجرم کو عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافی ہر جگہ آزادی کے ساتھ اپنا کام کر سکیں۔ ادھر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آزادی صحافت اور صحافیوں کو تحفظ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں صحافت ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے، یہ عوام اور حکومت کے مابین رابطے کا موثر ذریعہ ہے، صحافت سے وابستہ افراد ہی پیش آمدہ حالات و اقعات سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں جس سے نہ صرف جمہوری اقدار و روایات فروغ پاتی ہیں، جمہوریت کو استحکام ملتا ہے بلکہ عوامی شعور میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور حکومت بھی جواب دہی پر مجبور ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ریاست کا یہ چوتھا ستون سخت مشکلات سے دوچار ہے، غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور آزادی اظہار کا عمل مشکل بنادیا گیا ہے۔ 2 نومبر کو ہر سال صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد صحافیوں پر تشدد، اغوا، قتل اور دھمکیوں کے خلاف آواز بلند کرنا، صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کا ماحول فراہم کرنا، ان کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ذمے داروں کو سزا دلانا ہے۔ یہ دن ان دو فرانسیسی صحافیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہیں 2013 میں قتل کردیا گیا تھا، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 تک دنیا بھر میں کل 409 صحافی ہلاک ہوئے، جب کہ گزشتہ دو سال میں صرف غزہ میں اسرائیل افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں 237 صحافی شہید ہوئے جن میں سے تقریباً 197 صحافیوں کا تعلق فلسطین سے تھا۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، جسمانی حملوں اور ملزمان کو سزا سے بچ جانے کی روایت کا سامنا رہتا ہے۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق، پاکستان 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر ہے۔ یہ المیہ رہا ہے کہ فوجی طالع آزما ہوں یا سول حکمران ہر دور میں آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا پر پابندیاں عاید گئیں اور یہ منظر نامہ صرف مقامی نہیں عالمی سطح پر بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے جہاں صحافی آزادانہ رپورٹنگ کے چیلنجز سے دوچار ہیں، اس کی واضح مثال امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک ہیں جہاں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں آزادی اظہار رائے پر بے جا پابندیاں عاید کی جائیں اور غیرجانبدارانہ اطلاعات کی فراہمی کی راہ مسدود کردی جائیں وہ معاشرہ انارکی اور افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ عوام تک حقائق کی رسائی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا اور انہیں دھمکیاں دینا غیر جمہوری طرزعمل ہے، صحافت کا گلا گھونٹ کر جمہوری معاشرے کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کی موثر تفتیش، انصاف کی فراہمی اور ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے اور صحافیوں کو ایسا آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے جہاں و ہ بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔

 

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صحافیوں کے خلاف جرائم صحافیوں کو ا کا نشانہ جاتا ہے

پڑھیں:

مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ

برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔

جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل