صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-03-3
صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحافی سچائی کی تلاش میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں زبانی بدسلوکی، قانونی دھمکیاں، جسمانی حملے، قید، اور تشدد شامل ہیں، یہاں تک کہ کچھ صحافی تو اپنی جان تک گنوا بیٹھے ہیں، غزہ صحافیوں کے لیے کسی بھی تنازعے میں سب سے خطرناک جگہ رہی ہے۔ میں ایک بار پھر آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً دس میں سے نو صحافیوں کے قتل کے واقعات تاحال حل طلب ہیں۔ صحافیوں پر حملے انہیں تشدد کا نشانہ بنانا صرف ناانصافی نہیں بلکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہے تمام حکومتوں کو ہر کیس کی تحقیقات کرنی چاہئیں، ہر مجرم کو عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافی ہر جگہ آزادی کے ساتھ اپنا کام کر سکیں۔ ادھر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آزادی صحافت اور صحافیوں کو تحفظ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں صحافت ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے، یہ عوام اور حکومت کے مابین رابطے کا موثر ذریعہ ہے، صحافت سے وابستہ افراد ہی پیش آمدہ حالات و اقعات سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں جس سے نہ صرف جمہوری اقدار و روایات فروغ پاتی ہیں، جمہوریت کو استحکام ملتا ہے بلکہ عوامی شعور میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور حکومت بھی جواب دہی پر مجبور ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ریاست کا یہ چوتھا ستون سخت مشکلات سے دوچار ہے، غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور آزادی اظہار کا عمل مشکل بنادیا گیا ہے۔ 2 نومبر کو ہر سال صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد صحافیوں پر تشدد، اغوا، قتل اور دھمکیوں کے خلاف آواز بلند کرنا، صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کا ماحول فراہم کرنا، ان کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ذمے داروں کو سزا دلانا ہے۔ یہ دن ان دو فرانسیسی صحافیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہیں 2013 میں قتل کردیا گیا تھا، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 تک دنیا بھر میں کل 409 صحافی ہلاک ہوئے، جب کہ گزشتہ دو سال میں صرف غزہ میں اسرائیل افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں 237 صحافی شہید ہوئے جن میں سے تقریباً 197 صحافیوں کا تعلق فلسطین سے تھا۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، جسمانی حملوں اور ملزمان کو سزا سے بچ جانے کی روایت کا سامنا رہتا ہے۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق، پاکستان 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر ہے۔ یہ المیہ رہا ہے کہ فوجی طالع آزما ہوں یا سول حکمران ہر دور میں آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا پر پابندیاں عاید گئیں اور یہ منظر نامہ صرف مقامی نہیں عالمی سطح پر بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے جہاں صحافی آزادانہ رپورٹنگ کے چیلنجز سے دوچار ہیں، اس کی واضح مثال امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک ہیں جہاں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں آزادی اظہار رائے پر بے جا پابندیاں عاید کی جائیں اور غیرجانبدارانہ اطلاعات کی فراہمی کی راہ مسدود کردی جائیں وہ معاشرہ انارکی اور افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ عوام تک حقائق کی رسائی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا اور انہیں دھمکیاں دینا غیر جمہوری طرزعمل ہے، صحافت کا گلا گھونٹ کر جمہوری معاشرے کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کی موثر تفتیش، انصاف کی فراہمی اور ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے اور صحافیوں کو ایسا آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے جہاں و ہ بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: صحافیوں کے خلاف جرائم صحافیوں کو ا کا نشانہ جاتا ہے
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک