Jasarat News:
2026-06-03@01:56:12 GMT

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن

اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251104-03-3

 

صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں صحافی سچائی کی تلاش میں بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں زبانی بدسلوکی، قانونی دھمکیاں، جسمانی حملے، قید، اور تشدد شامل ہیں، یہاں تک کہ کچھ صحافی تو اپنی جان تک گنوا بیٹھے ہیں، غزہ صحافیوں کے لیے کسی بھی تنازعے میں سب سے خطرناک جگہ رہی ہے۔ میں ایک بار پھر آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تقریباً دس میں سے نو صحافیوں کے قتل کے واقعات تاحال حل طلب ہیں۔ صحافیوں پر حملے انہیں تشدد کا نشانہ بنانا صرف ناانصافی نہیں بلکہ یہ اظہارِ رائے کی آزادی پر حملہ اور جمہوریت کے لیے خطرہ ہے تمام حکومتوں کو ہر کیس کی تحقیقات کرنی چاہئیں، ہر مجرم کو عدالت کے کٹہرے میں لانا چاہیے، اور اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ صحافی ہر جگہ آزادی کے ساتھ اپنا کام کر سکیں۔ ادھر وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ آزادی صحافت اور صحافیوں کو تحفظ دینے کے لیے پرعزم ہیں۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں صحافت ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے، یہ عوام اور حکومت کے مابین رابطے کا موثر ذریعہ ہے، صحافت سے وابستہ افراد ہی پیش آمدہ حالات و اقعات سے عوام کو آگاہ کرتے ہیں جس سے نہ صرف جمہوری اقدار و روایات فروغ پاتی ہیں، جمہوریت کو استحکام ملتا ہے بلکہ عوامی شعور میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور حکومت بھی جواب دہی پر مجبور ہوتی ہے، مگر بدقسمتی سے ریاست کا یہ چوتھا ستون سخت مشکلات سے دوچار ہے، غیر جانبدارانہ رپورٹنگ اور آزادی اظہار کا عمل مشکل بنادیا گیا ہے۔ 2 نومبر کو ہر سال صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اس دن کو منانے کا مقصد صحافیوں پر تشدد، اغوا، قتل اور دھمکیوں کے خلاف آواز بلند کرنا، صحافیوں کو آزادانہ رپورٹنگ کا ماحول فراہم کرنا، ان کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانا اور صحافیوں کے خلاف جرائم میں ملوث ذمے داروں کو سزا دلانا ہے۔ یہ دن ان دو فرانسیسی صحافیوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہیں 2013 میں قتل کردیا گیا تھا، جس کے بعد اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اپنی ایک قرارداد کے ذریعے اس دن کو منانے کا اعلان کیا تھا۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2020 سے 2024 تک دنیا بھر میں کل 409 صحافی ہلاک ہوئے، جب کہ گزشتہ دو سال میں صرف غزہ میں اسرائیل افواج کی کارروائیوں کے نتیجے میں 237 صحافی شہید ہوئے جن میں سے تقریباً 197 صحافیوں کا تعلق فلسطین سے تھا۔ المناک صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کو دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے جہاں صحافیوں کو اکثر دھمکیوں، جسمانی حملوں اور ملزمان کو سزا سے بچ جانے کی روایت کا سامنا رہتا ہے۔ رپورٹرز وِدآؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2025 کے مطابق، پاکستان 180 ممالک میں سے 158 ویں نمبر پر ہے۔ یہ المیہ رہا ہے کہ فوجی طالع آزما ہوں یا سول حکمران ہر دور میں آزادی اظہار پر قدغن لگانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں، صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں، الیکٹرونکس اور پرنٹ میڈیا پر پابندیاں عاید گئیں اور یہ منظر نامہ صرف مقامی نہیں عالمی سطح پر بھی یہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے جہاں صحافی آزادانہ رپورٹنگ کے چیلنجز سے دوچار ہیں، اس کی واضح مثال امریکا، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک ہیں جہاں حق اور سچ کی آواز بلند کرنے والے صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتی ہیں اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جس معاشرے میں آزادی اظہار رائے پر بے جا پابندیاں عاید کی جائیں اور غیرجانبدارانہ اطلاعات کی فراہمی کی راہ مسدود کردی جائیں وہ معاشرہ انارکی اور افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ عوام تک حقائق کی رسائی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا، صحافیوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنانا اور انہیں دھمکیاں دینا غیر جمہوری طرزعمل ہے، صحافت کا گلا گھونٹ کر جمہوری معاشرے کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ صحافیوں کے خلاف جرائم کی موثر تفتیش، انصاف کی فراہمی اور ان کے خلاف جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے اور صحافیوں کو ایسا آزادانہ ماحول فراہم کیا جائے جہاں و ہ بلا خوف و خطر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دے سکیں۔

 

 

اداریہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: صحافیوں کے خلاف جرائم صحافیوں کو ا کا نشانہ جاتا ہے

پڑھیں:

بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر

اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔

یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔

اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔

ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔

اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • چیمپئنز لیگ جیتنے کی خوشی تشدد میں بدل گئی، پیرس میں جلاؤ گھیراؤ اور پولیس سے جھڑپیں