Jasarat News:
2026-06-03@06:40:00 GMT

سروے کے مطابق صرف 12.03 فیصد مصنوعات پر ٹیکس اسٹیمپ پائے

اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ریٹیل مارکیٹ میں دستیاب سگریٹ برانڈز میں سے 81.01 فیصد پر ٹیکس اسٹیمپ موجود نہیں ہے، یہ رجحان وسیع پیمانے پر ایکسائز ڈیوٹی چوری کی نشاندہی کرتا ہے۔ سروے کے مطابق صرف 12.

03 فیصد مصنوعات پر ٹیکس اسٹیمپ پائے گئے، جبکہ 6.96 فیصد سگریٹ برانڈز ٹیکس کی ادائیگی کرکے اور بغیر ٹیکس دونوں شکلوں میں فروخت ہو رہے تھے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ باقاعدہ سگریٹ برانڈز کے ساتھ ساتھ ایک متوازی غیر قانونی تقسیم کا نظام بھی چل رہا ہے۔ملک میں غیر قانونی تجارت کے خاتمے کے لیے ایک مشاورتی فورم اسٹاپ الیگل ٹریڈ کے تحت کئے گئے سروے ‘‘پاکستان میں غیر قانونی سگریٹوں کا بے قابو پھیلاو ¿’’ میں سگریٹ کی ریٹیل مارکیٹ میں ٹیکس اور تمباکو کنٹرول کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی تشویشناک سطح کو اجاگر کیا گیا ہے۔ نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں سگریٹ کی بلیک مارکیٹ تیزی سے پھل پھول رہی ہے اور غیر قانونی تجارت کو روکنے کے لیے ضوابط کے سختی سے اطلاق کی فوری ضرورت ہے۔سروے کے مطابق تقریباً 47 فیصد سگریٹ برانڈز نے پیکنگ پر لازمی صحت سے متعلق وارننگز ظاہر نہیں کیں، جو قومی تمباکو کنٹرول قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ صرف 53.16 فیصد برانڈز نے ان قوانین کی پاسداری کی۔ غیر قانونی اور غیر رجسٹرڈ سگریٹ برانڈز کی وسیع موجودگی انفورسمنٹ نظام کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سگریٹ برانڈز

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • بجٹ میں سولر پینلز پر عائد ٹیکس میں کتنے فیصد اضافہ کیا جا سکتا ہے؟
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا