غیر قانونی تعمیر کی اجازت دینے کا کیس، ایس بی سی اے افسر سمیت 13 ملزمان کی ضمانت مسترد
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
کراچی:
صوبائی اینٹی کرپشن عدالت نے لیاری نیا آباد میں بلڈنگ کی غیر قانونی تعمیر کرنے کی اجازت دینے کے مقدمے میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسر سمیت 13 ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی۔
صوبائی اینٹی کرپشن کی عدالت کے روبرو لیاری نیا آباد میں بلڈنگ کی غیر قانونی تعمیر کرنے کی اجازت دینے کے مقدمے میں ملزمان کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسر سمیت 13 ملزمان کی ضمانت مسترد کردی۔
اینٹی کرپشن نے ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر امتیاز سمیت 10 ملزمان کو گرفتار کرلیا، 3 ملزمان درخواست ضمانت پر فیصلے کے وقت موجود نا ہونے کی وجہ سے گرفتار نہیں ہو سکے۔ گرفتار ملزمان میں امتیاز شیخ، آفتاب سومرو، علی خان، شکیل میمن و دیگر شامل ہیں۔
اینٹی کرپشن حکام کے مطابق ملزمان نے لیاری میں نیا آباد کے علاقے میں بلڈنگ کی غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اینٹی کرپشن ملزمان کی کی اجازت
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔