بلاک اے پلاٹ ایس بی 32 پر این آر ریزیڈنسی نامی کمرشل پراجیکٹ کی تعمیر شروع
ڈائریکٹر سید ضیاء پر کارروائی نہ کرنے کے الزامات، شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

نارتھ ناظم آباد کے رہائشی علاقوں میں رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر کمرشل عمارتیں تعمیر کیے جانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ، جس کے نتیجے میں مقامی شہریوں کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔بلاک اے پلاٹ نمبر ایس بی 32پر این آر ریزیڈنسی نامی کمرشل پراجیکٹ کی تعمیر جاری ہے جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علاقوں میں متعدد جگہوں پر رہائشی پلاٹوں کو تجارتی مراکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے ، جس سے نہ صرف علاقے کا رہائشی تشخص متاثر ہو رہا ہے بلکہ ٹریفک کے مسائل میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ایک مقامی رہائشی عبداللہ خان نے بتایا، ’’ہماری گلیوں میں دن رات گاڑیوں کا رش لگا رہتا ہے ۔ پرانی نکاسی آب کا نظام اس تجارتی استعمال کو برداشت نہیں کر پا رہا، جس کے نتیجے میں گلیوں میں گندے پانی کے جوہڑ بن گئے ہیں۔ ’’علاقہ مکینوں نے ڈائریکٹر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سید ضیاء پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف انہدامی کارروائی نہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں ۔جبکہ محکمہ بلدیات کے ترجمان نے بتایا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے گزشتہ مہینے متعدد غیر قانونی تعمیرات کو نشانہ بنایا ہے ، تاہم کچھ معاملات میں قانونی رکاوٹوں کی وجہ سے کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے ‘‘۔ علاقے کے شہریوں نے
وزیر بلدیات سے اپیل کی ہے کہ وہ نارتھ ناظم آباد میں غیر قانونی کمرشل تعمیرات کے خلاف فوری کارروائی کریں اور علاقے کے رہائشی تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا