عالمی مارکیٹ میں سونا مہنگا ہوگیا، مقامی سطح پر بھی قیمتوں میں مزید اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: عالمی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر آج بھی سونے کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ ہوگیا۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہونے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی پیر کے روز قیمتوں میں بڑی چھلانگ دیکھنے میں آئی ہے۔ عالمی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونا 13 ڈالر مہنگا ہو کر 4 ہزار 15 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان کی مارکیٹوں میں بھی دیکھنے میں آئے۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور اور دیگر بڑے شہروں کی صرافہ مارکیٹوں میں 24 قیراط کے فی تولہ سونے کی قیمت 1 ہزار 300 روپے کے اضافے سے 4 لاکھ 23 ہزار 862 روپے تک جا پہنچی۔
اسی طرح 10 گرام سونا 1 ہزار 115 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 63 ہزار 393 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی قدر میں معمولی کمی اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحان میں اضافے کے باعث سونے کی قیمت میں یہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دباؤ مقامی مارکیٹ میں براہِ راست منتقل ہو رہا ہے۔ کچھ عرصے سے سونے کی طلب میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ سرمایہ کار روپے کے مقابلے میں سونا خریدنے کو زیادہ محفوظ سمجھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں معمولی اتار چڑھاؤ کا اثر اب پاکستانی مارکیٹوں میں فوری محسوس ہونے لگا ہے۔
دوسری جانب مقامی مارکیٹوں میں چاندی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور پیر کے روز فی تولہ چاندی کی قیمت 25 روپے بڑھ کر 5 ہزار 152 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 22 روپے مہنگی ہو کر 4 ہزار 417 روپے تک جا پہنچی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹوں میں سونے کی قیمت قیمتوں میں مارکیٹ میں میں بھی رہا ہے
پڑھیں:
فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔
کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔