گندم کی قیمت 4700 روپے فی من مقرر کی جائے،سندھ آبادگار بورڈ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251103-2-14
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سندھ آبادگار بورڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ گندم کی امدادی قیمت 4700 روپے فی من اور گنے کی قیمت 500 روپے فی من مقرر کی جائے۔ بورڈ نے پیاز کی فصل کی تباہی کی بڑی وجہ زرعی تحقیق کی کمی کو بھی قرار دیا ہے۔اس سلسلے میں سندھ آبادگار بورڈ کا اجلاس صدر محمود نواز شاہ کی زیر صدارت حیدرآباد میں ہوا، جس میں ڈاکٹر محمد بشیر نظامانی، عمران بزدار، محمد اسلم مری، طھ میمن، یار محمد لغاری، ارباب احسن، عبدالجلیل نظامانی، مراد علی شاہ بکیرئی اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں کاشتکاروں نے زراعت سے متعلق اہم مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ مطلوبہ زرعی تحقیق نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے نئی اور بہتر ٹیکنالوجیز بھی متعارف نہیں ہو رہی اور مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زرعی تحقیق کی کمی کے باعث پیاز کی فصل کی تباہی بھی اس کی واضح مثال ہے۔۔اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر اور نومبر میں پیدا ہونے والی پیاز نہ صرف سال بھر کی مقامی طلب پوری کر رہی تھی بلکہ برآمد بھی کی جا رہی تھی۔ لیکن گزشتہ تین سالوں سے اکتوبر اور نومبر میں پیاز کی فصل تباھ ہوتی رہی اور اس مسئلے کے حل کے لیے نہ تو تحقیق کی گئی اور نہ ہی اسے بچانے کے لیے کوئی اور موثر اقدامات کیے گئے، جس کی وجہ سے کسانوں کی اکثریت نے پیاز اگانا بند کر دی۔ نتیجتا پاکستان کو اب پیاز برآمد کرنے کی بجائے مزید درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔سندھ آبادگار بورڈ نے کہا ہے کہ زراعت میں مسلسل تحقیق اور ترقی ضروری ہے، کیونکہ کم پیداوار، فصل سے پہلے اور بعد میں ہونے والے نقصانات اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا مقابلہ مضبوط زرعی تحقیق کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ زراعت کو پائیدار رکھنا بہت ضروری ہے۔سندھ آبادگار بورڈ کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے پیداواری لاگت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ اگر زرعی مصنوعات کی قیمتیں بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کو پورا نہیں کرتیں تو ان کی کاشت معاشی طور پر ناقابل عمل ہو جائے گی۔ اس لیے زرعی معیشت کو بچانے کے لیے زرعی اجناس کی کم از کم امدادی قیمت کا تعین کرنا بہت ضروری ہے۔ اجلاس میں سندھ آبادگار بورڈ نے مطالبہ کیا کہ گندم کی فی من امدادی قیمت 4700 روپے اور گنے کی قیمت 500 روپے فی من مقرر کی جائے یہ امدادی قیمتیں کاشت کی لاگت اور کسانوں کے معقول منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے طئے کی گئی ہیں۔ جہاں زرعی مصنوعات کی مفت برآمد کی اجازت نہیں ہے وہاں حکومت سپورٹ پرائس مقرر کرے۔سندھ آبادگار بورڈ نے گندم کی کاشت کے لیے چھوٹے کاشتکاروں کو ڈی اے پی اور یوریا کھاد فراہم کرنے کے حوالے سے سندھ حکومت کے اقدام کو بھی سراہا اور کہا کہ اس پروگرام کی کامیابی کا دارومدار کسانوں کے لیے دیگر متعلقہ امور میں سہولت فراہم کرنے پر ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ ا بادگار بورڈ نے روپے فی من کی قیمت گندم کی کے لیے
پڑھیں:
سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے اثرات پاکستان کی مقامی صرافہ مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے جہاں جمعہ کے روز سونے اور چاندی دونوں کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق 24 قیراط فی تولہ سونے کی قیمت میں 4 ہزار 600 روپے کی نمایاں کمی کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 27 ہزار 436 روپے مقرر ہوگئی۔
اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 944 روپے کم ہو کر 3 لاکھ 66 ہزار 457 روپے تک آگئی جس سے گزشتہ چند روز سے جاری اضافے کا رجحان وقتی طور پر رک گیا۔
دوسری جانب فی تولہ چاندی 61 روپے سستی ہونے کے بعد 6 ہزار 309 روپے میں فروخت ہونے لگی جبکہ عالمی منڈی میں بھی قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر کمی کے بعد 4 ہزار 50 ڈالر پر آگئی۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط حکمت عملی اختیار کیے جانے کے باعث سونے کی قیمتیں دباؤ کا شکار رہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باعث مقامی صرافہ بازار میں بھی سونا سستا ہوا ہے۔ اگر بین الاقوامی سطح پر یہی رجحان برقرار رہا تو آئندہ دنوں میں مقامی مارکیٹ میں مزید کمی کا امکان بھی موجود ہے تاہم ڈالر کی قدر اور عالمی معاشی صورتحال قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گی۔
مزید پڑھیں۔جوز بٹلر نے ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا