47فیصد پاکستانیوں نے کبھی ٹرین کا سفر نہیں کیا، سروے میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی:۔ گیلپ پاکستان کے ایک حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ 47 فیصد پاکستانیوں نے کبھی بھی ٹرین کا سفر نہیں کیا۔
سروے کے مطابق رکشا، بس اور ویگن میں سفر سے پاکستانیوں کی اکثریت مانوس ہے، 80 فیصد نے رکشوں، 79 فیصد نے بسوں اور ویگن میں سفر کرنے کا بتایاہے، جبکہ 18 فیصد نے رکشوں اور 17 فیصد نے بسوں، ویگنوں میں بالکل سفر نہ کرنے کا کہا۔
اس سوال پر کہ ٹرین میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا؟ 47 فیصد پاکستانیوں نے اثبات میں جواب دیا، لیکن 47 فیصد نے کہا کہ انہوں نے کبھی ٹرین کا سفر نہیں کیا۔
بالائی علاقوں میں استعمال ہونے والی کیبل کار یا ڈولی لفٹ استعمال کرنے کا 14 فیصد پاکستانیوں نے کہا جبکہ 73 فیصد پاکستانیوں نے انکار کیا اور کہا کہ اب تک ڈولی لفٹ استعمال کرنے کا اتفاق نہیں ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فیصد پاکستانیوں نے فیصد نے کرنے کا
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے آئندہ مالی سال کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی۔
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق پائیڈ نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شواہد پر مبنی فریم ورک رپورٹ تیار کرلی، کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 45 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس طرح تنخواہوں میں 12.5 فیصد اضافہ ممکن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق کم از کم ماہانہ تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے سے کم آمدنی والے طبقے کی قوتِ خرید بہتر ہوگی اور انہیں مہنگائی کے اثرات سے تحفظ مل سکے گا۔ پائیڈ کا کہنا ہے کہ اجرتی پالیسی کا اثر غربت، روزگار، گھریلو طلب اور مقامی معیشت پر براہِ راست پڑتا ہے، اس لیے کم از کم اجرت کا معاملہ اب صرف لیبر ڈیپارٹمنٹ تک محدود نہیں رہا۔
اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی تا اپریل مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد رہی، جبکہ اپریل 2026 میں سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پائیڈ نے زور دیا ہے کہ اجرتوں کو مہنگائی اور موجودہ معاشی حقائق کے مطابق بنایا جائے تاکہ سماجی استحکام، غربت میں کمی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔