بغیر حفاظتی اقدامات مزدور کے کام کرتے ویڈیو وائرل، ’کسی مہذب ملک میں کنٹریکٹر پر پابندی لگ جاتی‘
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
کراچی میں ایک مزدور کی بلندی پر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے کام کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مزدور کئی سو فٹ کی اونچائی پر عمارت کے سریوں پر کھڑا ہے اور بغیر کسی حفاظتی سامان کے اپنا کام انجام دے رہا ہے۔
ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ مزدور نے نہ تو ہیلمٹ پہنا ہے، نہ سیفٹی جیکٹ، اور نہ ہی کسی حفاظتی رسی یا مشین کی مدد حاصل کی ہے۔ خطرناک بلندی پر بغیر حفاظتی اقدامات کے اس طرح کا کام کسی بھی وقت سنگین حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔
یہ کلفٹن ہائپر اسٹار ڈالمن مال کراچی ہے۔۔
غریب مزدور سیفٹی کے بغیر خطرناک کام کر رہے ہیں، اور لوگ اسے تماشہ بنا رہے ہیں۔۔
ایسا کام باہر ممالک میں ہو تو سیدھا جرمانہ لگتا ہے!! pic.
— Mohammad Hayat (@mofarooka) November 3, 2025
سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تعمیراتی منصوبوں میں مزدوروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور ایسے خطرناک حالات میں کام کرنے سے روکنے کے لیے سخت قوانین پر عمل درآمد کرایا جائے۔
صارفین کا کہنا تھا کہ ایسا کام باہر کسی ملک میں کیا جاتا تو ان کو جرمانہ کیا جاتا۔ ایک صارف نے لکھا کہ کنسٹرکشن کمپنی اور ٹھیکیدار دونوں کو اس غفلت پر جیل میں ڈالنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو لوگ بس اتنا کہیں گے کہ غریب کا بچہ تھا مر گیا۔ مگر اُن ظالم امیروں سے کوئی سوال نہیں کرے گا جن کے محل انہی محنت کشوں کے خون پسینے سے آباد ہیں۔ مگر انہیں مزدوروں کی جان کی کوئی پرواہ نہیں۔
کنسٹرکشن کمپنی اور ٹھیکیدار، دونوں کو غفلت پر جیل کی ہوا کھلانا ضروری ہے۔ خدا نہ کرے اگر کوئی حادثہ پیش آ جائے تو لوگ بس اتنا کہیں گے کہ غریب کا بچہ تھا، مر گیا۔ مگر اُن ظالم امیروں سے کوئی سوال نہیں کرے گا جن کے محل انہی محنت کشوں کے خون پسینے سے آباد ہیں، مگر انہیں مزدوروں کے…
— Ghulamuddin (GD) (@GD_Alisher) November 3, 2025
سید قاسم ضیاء نے لکھا کہ باہر کسی مہذب ملک میں ایسا ہوتا تو سائیٹ بند ہو جانی تھی اورشاید کنٹریکٹرپر ہمیشہ کے لیے پابندی لگ جاتی۔
باہر کسی مہذب ملک میں ایسا ہوتا تو سائیٹ بند ہو جانی تھی اورشائد کنٹریکٹرپر ہمیشہ کے لئے پابندی لگ جاتی
— Syed Qasim Zia (@SyedQsimZia) November 3, 2025
مونی خان نے کہا کہ ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہے اپنے مزدوروں کو سیفٹی کٹ کے ساتھ کام پر لگائے یہ بہادری یا محنت نہیں بیوقوفی ہے۔
ٹھیکیدار کی ذمہ داری ہے اپنے مزدوروں کو سیفٹی کٹ کے ساتھ کام پر لگائے یہ بہادری یا محنت نہیں بیوقوفی ہے
— Moni khan (@Monikhan2024) November 3, 2025
عبدالرحمان نے مطالبہ کیا کہ اس کے ٹھیکیدار اور دوسرے ذمہ داران کو فوری گرفتار کرنا چاہیے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیے۔
اس کے ٹھیکیدار اور دوسرے ذمہ داران کو فوری گرفتار کرنا چاہیے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا چاہیے ????
— Abdur Rehman Burki (@AbdurRehman7_) November 3, 2025
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظرا ٓئے کہ مزدور خود حفاظتی اقدامات کے بغیر آخر کام ہی کیوں کر رہے ہیں۔ ایسے تو یہ خود اپنی موت کو دعوت دے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اونچی عمارتیں کراچی کراچی مٰں عمارتوں کی تعمیر مزدور وائرل ویڈیو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اونچی عمارتیں کراچی کراچی م ں عمارتوں کی تعمیر وائرل ویڈیو کرنا چاہیے رہے ہیں ملک میں کے لیے
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ