جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی تعداد پر قابو پانے اور گنجائش کے پیش نظر دباﺅ کم کرنے کیلئے سرکاری اسکیم کے تحت ستمبر 2024 سے لیکر ابتک انگلینڈ اور ویلز کی جیلوں میں قید تقریباً 40ہزار کے قریب قیدیوں کی رہائی کا انکشاف ہوا ہے۔

وزارت انصاف کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جیلوں سے بھیڑ بھاڑ کو کم کرنے کیلئے ماضی میں لیبر حکومت کی طرف سے اسکیم متعارف کرائی گئی تھی جس کے تحت قیدیوں کی رہائی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

جیلوں میں قیدیوں کی تعداد پوری ہونے کے بعد حکومت کو مجبوراً نئے قیدیوں کیلئے گنجائش بنانے کی غرض یہ سے فیصلہ کرنا پڑا تھا اس وقت سیکرٹری قانون شبانہ محمود نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر ہم کام کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں فوجداری نظام انصاف کے خاتمے تک سامنا کرناپڑ سکتا ہے۔

اس سکیم کے تحت اپنی سزا کا تقریباً چالیس فیصد پورا کرنیوالوں کو رہائی دی جاتی ہے‘ تاہم طے شدہ شرائط پر پورا نہ اترنے والوں کو دوبارہ قید کر لیا جاتا ہے۔

یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ شرائط کی خلاف ورزی پر اپریل سے جون 2025 کے دوران 11ہزار سے زائد قیدیوں کو واپس جیلوں میں بند کیا گیا ہے گزشتہ سال یہ تعداد 10ہزار سے کم تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: قیدیوں کی جیلوں میں

پڑھیں:

تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اختلافات شدید تحریک انصاف گلگت بلتستان انٹری نواز شریف وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود