شہری کو اغوا کرکے تاوان طلب کرنے کیخلاف کیس: ڈی آئی جی، ایس ایس پی سمیت دیگر کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
سندھ ہائیکورٹ نے ایس آئی یو اہلکاروں کی جانب سے شہری کے اغواء اور تاوان طلب کرنے کیخلاف درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل، پراسکیوٹر جنرل سندھ، ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر، ایس ایس پی ایس آئی یو و دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔
ہائی کورٹ میں ایس آئی یو اہلکاروں کی جانب سے شہری مشتاق علی شاہ کے اغواء اور تاوان طلب کرنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
درخواستگزار کی وکیل بشرا عباس ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ 24 اکتوبر کی شام کو اورنگی ٹاؤن سے ایس آئی یو پولیس اہلکاروں اور کچھ پرائیویٹ افراد نے اغوا کیا۔ اغوا کرنے کے بعد ایس آئی یو سینٹر کے پرائیویٹ ٹارچر سیل میں رکھا گیا۔
درخواستگزار کو جانے سے مارنے کی دھمکیاں دی گئی اور 20 لاکھ تاوان طلب کیا گیا۔ کچھ روز قبل بھی ایس آئی یو کی حراست میں نوجوان عرفان بلوچ کی ہلاکت ہوئی ہے۔
آئی جی سندھ کو واقعے کی انکوائری کا حکم دیا جائے۔ محکمہ داخلہ سندھ سے ایس آئی یو کی تشکیل سے متعلق جواب بھی طلب کیا جائے۔
ایڈووکیٹ جنرل، پراسکیوٹر جنرل سندھ، ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر، ایس ایس پی ایس آئی یو و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کرلیا۔ عدالت نے فریقین سے 3 نومبر تک جواب بھی طلب کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایس آئی یو تاوان طلب
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔