59 فیصد امریکی صدر ٹرمپ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں، تازہ ترین سروے
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک) واشنگٹن پوسٹ، اے بی سی نیوز اور ایپسوس کے تازہ سروے کے مطابق زیادہ تر امریکیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آزادی اظہار‘منصفانہ عدالتی نظام اور آزاد انتخابات کے تحفظ سے وابستگی پر اعتماد نہیں۔ سروے میں 56فیصد نے کہا کہ ٹرمپ آزاد و منصفانہ انتخابات کے لیے سنجیدہ نہیں جبکہ صرف 43 فیصد نے انہیں اس حوالے سے قابلِ اعتماد سمجھا۔ اسی طرح 58 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنا رہے ہیں اور دو تہائی رائے دہندگان کے مطابق وہ صدارتی اختیارات بڑھانے میں حد سے تجاوز کر رہے ہیں۔ اکثریت امریکیوں نے اس تجویز کی بھی مخالفت کی کہ ٹرمپ کو وفاقی تحقیقات کے بدلے میں حکومت سے مالی معاوضہ دیا جائے۔ صرف 20فیصد اس کے حامی ہیں جبکہ 63فیصد نے مخالفت کی۔ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 41فیصد ہے جبکہ 59فیصد ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ ریپبلکن ووٹرز ان کے حامی جبکہ ڈیموکریٹس اور آزاد ووٹرز بڑی حد تک مخالف ہیں۔پول کے مطابق زیادہ تر امریکی ٹرمپ کی پریس کی آزادی کے تحفظ کی نیت پر بھی شک کرتے ہیں، مگر وہ انہیں اسلحہ رکھنے کے حق کے حامی سمجھتے ہیں۔اسی دوران، ٹرمپ اپنے مخالفین سابق ایف بی آئی ڈائریکٹر جیمز کومی اور سابق مشیر جان بولٹن پر الزامات کی حمایت میں تقسیم رائے کا سامنا کر رہے ہیں‘بیشتر امریکیوں کو یقین نہیں کہ یہ مقدمات سیاسی ہیں یا قانونی۔ سروے میں مزید بتایا گیا کہ 60 فیصد امریکی ججوں کے کردار کو آئینی حدود کے تحفظ کی کوشش سمجھتے ہیں، جبکہ صرف 35فیصد کے نزدیک عدلیہ ٹرمپ کے اختیارات میں مداخلت کر رہی ہے۔یہ سروے 24 سے 28 اکتوبر کے دوران 2725 بالغ امریکیوں میں کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ٹرمپ کی
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔