بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر سے ترکیہ کے پارلیمانی وفد کی ملاقات، باہمی تعلقات مزید مستحکم کرنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے ترک گرینڈ نیشنل اسمبلی کے رکن اور ترکیہ بنگلادیش پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے چیئرمین مہمت آقِف یلماز کی قیادت میں ترکیہ کے پارلیمانی وفد نے ڈھاکا میں ملاقات کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ کے سیکریٹری دفاعی صنعت کی بنگلہ دیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزماں سے ملاقات
ترک وفد اور بنگلادیشی قیادت کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور انسانی بنیادوں پر تعاون کے فروغ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
’دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جارہی ہے‘مہمت آقِف یلماز نے کہا کہ ترکیہ اور بنگلادیش کے درمیان دوستی وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے اتوار 2 نومبر کو کاکس بازار میں روہنگیا کیمپوں کے دورے کی تفصیلات بتائیں اور ترکیہ کی جانب سے جاری امدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا جن میں ترک فیلڈ اسپتال اور مختلف این جی اوز کی کارروائیاں شامل ہیں۔
چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے روہنگیا مسلمانوں کی مسلسل معاونت پر ترکیہ کا شکریہ ادا کیا اور ترک سرمایہ کاروں کو بنگلادیش میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلادیش عالمی منڈیوں کے لیے ایک ابھرتا ہوا مینوفیکچرنگ اور ایکسپورٹ ہب بنتا جارہا ہے۔
’عالمی برادری کو روہنگیا بحران کو فراموش نہیں کرنا چاہیے‘پروفیسر یونس نے کہا کہ عالمی برادری کو روہنگیا بحران کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کیونکہ یہ لوگ صرف اس وجہ سے سزا بھگت رہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں جنہیں شہریت سے محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ 8 برس سے کیمپوں میں پرورش پانے والے بچے تعلیم اور مواقع سے محروم ہورہے ہیں جس کے باعث مستقبل میں عدم استحکام جنم لے سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنرل ساحر شمشاد کی چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش سے ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال
انہوں نے ترک صدر رجب طیب اردوان اور خاتون اول امینہ اردوان کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے بنگلادیش کے ساتھ انسانی اور ترقیاتی شعبوں میں مستقل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
چیف ایڈوائزر نے کہا کہ بنگلادیش دونوں ممالک کی خوشحالی اور مشترکہ مستقبل کے لیے ترکیہ کے ساتھ مل کر نئے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے تیار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بنگلہ دیش پارلیمانی وفد ترکیہ چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس مہمت آقِف یلماز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش پارلیمانی وفد ترکیہ چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس مہمت آق ف یلماز چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش ترکیہ کے کے ساتھ دیش کے کے لیے
پڑھیں:
کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
کراچی میں اضافی پانی کا منصوبہ کے فور کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی۔
ایکسپریس نیوز کو واٹر کارپوریشن حکام کے سینئر افسران نے اس کی تصدیق کی کہ منصوبے میں مزید ڈھائی سال لگ سکتے ہے، اگر کام اسی طرح ہوتا رہے تو اس منصوبے میں وفاق، سندھ حکومت ، بین الاقومی مالیتی اداروں کی فنڈنگ بھی کی گئی۔
حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہوچکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1ارب 20 کروڑ گیلن ہے جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کر نے کے لئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔
2014 میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بناناتھا جس کی لاگت 25 ارب روپے بتا ئی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا تاہم پھر اس کو واپڈ کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہوسکا۔
کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026 کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایکپسریس نیوز نے مختلف ذرائع سے جو تفصیلا ت حاصل کیں ان کے مطابق کے فور منصوبہ 2026 میں بھی مکمل نہیں ہوسکے گا اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029 کی جنوری تک ہے۔
ایک ذرائع نے بتایا کہ اگر کام اسی رفتار سے کام چلتا رہا تو نومبر 2025 کو آگمیٹیشن کام نیپا چورنگی سے شروع ہوا جو حسن اسکوائر تک محیط ہے، اس کی لمبائی 2 اعشاریہ 7 کلو میٹر طویل ہے اب تک مکمل نہیں ہوسکا کیونکہ یہ تو صرف ابتداء ہے اصل کام تو آر ون، آر ٹو، آر تھری کا کام جو اب تک شروع ہی نہیں ہوا۔
سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ان کا ٹھیکہ ہی نہیں ہوسکا کہ کام کون کریں گا آر ون ،آر ٹو ، آر تھری ہے کیا یہ ریروائر کی لائنیں ہے آر ون 26 کلومیٹر طویل ہے ، آر ٹو40کلومیٹر طویل ہے جبکہ آرتھری 28 کلومیٹر طویل بتائی جا تی ہے۔
یہ لائنیں شہر کے وسط سے ہوتی ہوئی گزریں گی ان لائنوں کا مختلف نمبرز دئیے گئے ہے یہ لائنیں ڈلنے کے بعد ہی کراچی کو اضافی پانی مل سکے گا جب لائنوں کا مکمل شروع ہوگا تو شہر کی اہم شاہراہوں کو کھودنا پڑے گا، جس میں 72 انچ اور 96 انچ کی لائنیں ڈالی جا ئیں گی۔
صرف ایک روڈ آر ٹو کی تفصیلات فراہم کرر ہے ہیں یہ ریزر وائر ٹو نادرن بائی سے واپڈ کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی کے سپرد کریں گی جو کھدائی کرتی ہوئی۔
نادرن بائی پاس، ٹول پلازہ سے سپرہائی وے ، پھر جنجال گوٹھ سے ہوتی ہوئی سہراب گوٹھ ، وہاں سے ابوالحسن اصفہانی روڈ ، ڈسکو بیکری سے ہوتی ہے گلشن چورنگی ، رب میڈیکل سے ہوتی ہوئی ہے سرسید یونی ورسٹی سےنیپا چورنگی پر آگمینٹیشن سے منسلک کیا جا ئے گا۔
پھر یہ حسن اسکوائر سے ہوتا ہوا غریب آباد ، لیا قت آباد ، ناظم آباد، حبیب بنک چورنگی ، سے ہوتی ہوئی گلبائی تک جا ئیں گی، یہ راستہ ہے (آر ٹو) ریزر وائر ٹو کے فور کے لئے ڈالی جانی والی لائن اس کے لئے جب لائن ڈالنے کا کام ہو گا تو کھدائی ہوگی جس میں 72 انچ اور کسی مقام پر 96 انچ کی لائن ڈالی جا ئیں گی۔
اندازہ لگانا مشکل نہیں یہ 94 کلو میٹر کی لائنیں ڈالنے کے لئے 80 ارب روپے لگے اس کے لئے 2 بین الاقومی مالیتی ادارے 80 فیصد قرضے کی صورت میں فنڈ فراہم کر یں گے جبکہ 20 فیصد فنڈ سندھ حکومت فراہم کر یگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ 80 ارب روپے صرف آرون، آرٹو، آر تھری کی لائنیں ڈالنے میں خرچ ہوں گے جبکہ 124 ارب ٹرانسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشنز، فلٹر پلانٹٹس اور دیگر کاموں میں خرچ ہوں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جا نے ہے جن میں ٹراسمیشن لائن ، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنا نے کے کام کی ذمہ داری ہے جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن ، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے آگمیٹیشن کانیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025 سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا بلکل بین الاقومی مالیتی ادارے نے اس کو غیر معیا ری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جا ئیں گی اس وقت شہریوں کو آمد ورفت میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔