پاکستان اور ترکیہ کے وزراء کی ملاقات دوطرفہ تجارت کے فروغ پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251104-01-2
استنبول (صباح نیوز) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے اسٹینڈنگ کمیٹی فار اکنامک اینڈ کمرشل کوآپریشن آف دی آرگنائزیشن آف دی اسلامک کوآپریشن (COMCEC) کے 41 ویں اجلاس کے موقع پر استنبول میں ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے ملاقات کی۔ پیر کو یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں وزرا نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ترکیہ کے وزیر تجارت پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بڑھانے اور دوطرفہ اقتصادی روابط کو بڑھانے کی اپنی حکومت کی شدید خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ترکیہ تجارتی مذاکرات کے آئندہ دور کے دوران پاکستان کی تجاویز کا احسن طریقے سے جائزہ لے گا۔
استنبول: وفاقی وزیر تجارت جام کمال ترکیہ ہم منصب پروفیسر ڈاکٹر عمر بولات سے ملاقات کر رہے ہیں
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک بیداری امت مصطفیٰ کے سربراہ اور اتحاد امت فورم کے رہنما علامہ سید جواد نقوی نے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی صاحب سے ملاقات کی اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر تعزیت و تسلیت، فاتحہ خوانی اور دعائے مغفرت کی۔ علامہ سید جواد نقوی نے علامہ سید ساجد علی نقوی کیساتھ 13 جون کو مینارِ پاکستان لاہور میں منعقد ہونے والی ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ملاقات میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، موجودہ حالات میں قومی و ملی ذمہ داریوں اور پروگرام کی تیاری و اہداف پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ مزید برآں علامہ سید جواد نقوی نے 13 جون مینارِ پاکستان ’’شہیدِ اُمت کانفرنس‘‘ میں شرکت اور تعاون کی دعوت بھی پیش کی اور اس پروگرام کو ملتِ اسلامیہ کے اتحاد، بیداری اور استقامت کا اہم ذریعہ قرار دیا۔