غزہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے، اسحٰق ڈار،حقان فیدان
اشاعت کی تاریخ: 3rd, November 2025 GMT
استنبول (ویب ڈیسک)نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحٰق ڈار نے استنبول میں غزہ کی صورتحال پر منعقدہ عرب و اسلامی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے موقع پر ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان سے ملاقات کی۔
اسحٰق ڈار نے ترکیہ کی جانب سے غزہ پر وزارتی اجلاس کے بروقت انعقاد کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس نے فلسطینی عوام کی حمایت میں مشترکہ عزم اور متفقہ آواز کو ایک بار پھر مضبوط انداز میں اجاگر کیا ہے اور تنازع کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اتفاقِ رائے کی تجدید کی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس امر پر زور دیا کہ غزہ امن معاہدے پر مکمل عمل درآمد ناگزیر ہے، خصوصاً جنگ بندی کے احترام، مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی افواج کے فوری انخلا، فلسطینی عوام تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ نے پاکستان اور ترکیہ کے برادرانہ تعلقات کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا، جو اب ایک کثیرالجہتی شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
دونوں وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ علاقائی اور عالمی اہمیت کے امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان قدیم برادرانہ تعاون کو مزید گہرا اور متنوع بنایا جائے گا تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔