غزہ میں غاصب صیہونی رژیم کے جنگی جرائم کے ایک نئے دور کے آغاز پر انتہاء پسند امریکی صدر نے نہ صرف قابض اسرائیلی رژیم کی مذمت نہیں کی بلکہ فلسطینی مزاحمت ہی کو مزید دھمکیاں دی ہیں اسلام ٹائمز۔ "اسرائیلیوں نے (حماس کا) جواب دیا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو انہیں جواب دینے کا حق ہے.." یہ الفاظ غزہ کے خلاف قابض اسرائیلی رژیم کے وحشیانہ حملوں کے دوبارہ آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ردعمل ہیں۔ ترک خبررساں ایجنسی ایناڈولو کے مطابق، امریکی صدر نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو "کسی بھی طرح سے" خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا.

. حتی باوجود اس کے کہ غزہ کی پوری پٹی میں مختلف علاقوں پر قابض اسرائیلی رژیم کے نئے سفاکانہ حملوں میں کم از کم 20 فلسطینی شہید اور 50 زخمی ہوئے ہیں۔
  جاپان سے جنوبی کوریا پہنچنے والے انتہاء پسند امریکی صدر نے ایئر فورس ون نامی اپنے طیارے میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ان حملوں کے بارے کچھ دیر قبل ہی علم ہوا ہے اور دعوی کیا کہ اسرائیلی ہوائی حملے "ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کا جواب" ہیں۔ انتہاء پسند امریکی صدر نے دعوی کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیلیوں نے جواب دیا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو انہیں جواب دینے کا حق ہے.. 

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ حملے غزہ میں جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس سے "کچھ بھی" خطرے میں نہیں پڑے گا۔ عام فلسطینی شہریوں کے گھروں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کئے بغیر، انتہاء پسند امریکی صدر نے حماس کے لئے دھمکی آمیز لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ حماس مشرق وسطی میں امن کا ایک بہت "چھوٹا" حصہ ہے.. انہوں نے کہا تھا کہ وہ اچھا برتاؤ کریں گے.. اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ خوش رہیں گے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ تباہ ہو جائیں گے!! ٹرمپ نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک ایسا کرنے کو تیار ہیں یہانتک کہ جاپان نے بھی آج اعلان کیا ہے کہ وہ بھی مشرق وسطی کے امن عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل