اسرائیلی حملوں سے "غزہ میں جنگبندی" کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ٹرمپ کا دعوی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
غزہ میں غاصب صیہونی رژیم کے جنگی جرائم کے ایک نئے دور کے آغاز پر انتہاء پسند امریکی صدر نے نہ صرف قابض اسرائیلی رژیم کی مذمت نہیں کی بلکہ فلسطینی مزاحمت ہی کو مزید دھمکیاں دی ہیں اسلام ٹائمز۔ "اسرائیلیوں نے (حماس کا) جواب دیا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو انہیں جواب دینے کا حق ہے.." یہ الفاظ غزہ کے خلاف قابض اسرائیلی رژیم کے وحشیانہ حملوں کے دوبارہ آغاز پر ڈونلڈ ٹرمپ کا تازہ ردعمل ہیں۔ ترک خبررساں ایجنسی ایناڈولو کے مطابق، امریکی صدر نے دعوی کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی معاہدے کو "کسی بھی طرح سے" خطرے میں نہیں ڈالا جائے گا.
جاپان سے جنوبی کوریا پہنچنے والے انتہاء پسند امریکی صدر نے ایئر فورس ون نامی اپنے طیارے میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مجھے ان حملوں کے بارے کچھ دیر قبل ہی علم ہوا ہے اور دعوی کیا کہ اسرائیلی ہوائی حملے "ایک اسرائیلی فوجی کی ہلاکت کا جواب" ہیں۔ انتہاء پسند امریکی صدر نے دعوی کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسرائیلیوں نے جواب دیا ہے اور جب ایسا ہوتا ہے تو انہیں جواب دینے کا حق ہے..
یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ حملے غزہ میں جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس سے "کچھ بھی" خطرے میں نہیں پڑے گا۔ عام فلسطینی شہریوں کے گھروں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کی مذمت کئے بغیر، انتہاء پسند امریکی صدر نے حماس کے لئے دھمکی آمیز لہجہ اپناتے ہوئے کہا کہ حماس مشرق وسطی میں امن کا ایک بہت "چھوٹا" حصہ ہے.. انہوں نے کہا تھا کہ وہ اچھا برتاؤ کریں گے.. اگر وہ ایسا کریں گے تو وہ خوش رہیں گے لیکن اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو وہ تباہ ہو جائیں گے!! ٹرمپ نے مزید کہا کہ بہت سے ممالک ایسا کرنے کو تیار ہیں یہانتک کہ جاپان نے بھی آج اعلان کیا ہے کہ وہ بھی مشرق وسطی کے امن عمل میں شامل ہونا چاہتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی