پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی اولین ترجیح ہے، یاسین آرائیں
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251214-4-13
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر) پسماندہ علاقوں میں طبی سہولیات کی فراہمی بھائی خان ویلفیئر کی اولین ترجیحات میں سے ہے۔ان خیالات کا اظہار بھائی خان ویلفیئر کے فاؤنڈر جنرل سیکرٹری حاجی محمد یاسین ارائیں نے 20 دسمبر کو بھائی خان ویلفیئر و حیدراباد انڈس لائنز کلب کے مشترکہ اشتراک سے گجراتی پاڑہ میں ایک روزہ مفت ائی کیمپ منعقد کرنے کے حوالے سے تعلقہ افس لطیف اباد سچل سرمست ٹاؤن یو سی 89 میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں تعلقہ چیئرمین حاجی عبدالحمید مٹھو۔وائس چیئرمین اکرم شاہ۔صدر حسن لالا۔قاضی شکیل۔محمد اسحاق۔محمد اکبر شاہ۔امجد علی شاہ و دیگر بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ائی کیمپ کے انتظامات کو بہترطور پر بنانے کیلئے اپنے تمام تر وسائل بروکار لائے جائیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ویلفیئر کے تمام عہدے داران اس کار خیر میں اپنا اہم کردار ادا کریں ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔