مغربی کنارے میں یہودی آبادیوں کے لیے 800 نئے رہائشی یونٹس کی اسرائیلی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-32
یروشلم/ واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی کنارے میں یہودی آبادیوں کے لیے 800 نئے رہائشی یونٹس کی اسرائیلی کی جانب سے منظوری دے دی گئی ہے،عالمی طاقتیں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں، اقوام متحدہ قراردادوںمیں صہیونی حکومت سے نئی آبادکاری فوراً روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے،ادھر مسلم ممالک کے اعتراض پر ٹونی بلیئرکا نام غزہ امن کونسل سے نکال دیا گیاجبکہ امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن بورڈ میں عالمی رہنماؤں کی شمولیت کا اعلان آئندہ سال ہونا چاہیے۔ تفصیلات کے مطابق اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 3 یہودی آبادیوں کے لیے 800 نئے رہائشی یونٹس کی تعمیر کی حتمی منظوری دے دی ہے۔ اس کا اعلان اسرائیلی وزیر خزانہ بیزالیل سموٹرچ نے کیا۔ عالمی طاقتیں مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہیں، کیونکہ یہ 1967 کی جنگ میں قبضے میں لی گئی زمین پر تعمیر کی جا رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں اسرائیل سے کہا کرتی ہیں کہ وہ نئی آبادکاری فوراً روکے۔ فلسطینی تنظیم پی ایل او کے رہنما واصل ابو یوسف کے مطابق، ‘‘ہمارے لیے تمام آبادیاں غیر قانونی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔’’ سموٹرچ نے بتایا کہ 2022 کے آخر میں ان کے دور کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں 51 ہزار سے زائد یونٹس کی منصوبہ بندی منظور کی جا چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملے بھی بڑھ گئے ہیں۔ صرف اکتوبر کے مہینے میں مغربی کنارے میں 264 حملے رپورٹ ہوئے، جو 2006 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ادھر حماس کے بیرون ملک سربراہ خالد مشعل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ حماس کے ہتھیاروں سے دستبرداری کا مطالبہ تنظیم کی “روح ختم کرنے” کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ حماس اپنی مزاحمت کو کمزور نہیں ہونے دے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ غزہ پر کسی غیر فلسطینی حکومتی اتھارٹی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ علا وہ ازیں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو عرب اور مسلم ممالک کے اعتراضات پر ٹرمپ کے جنگ بندی منصوبے میں غزہ امن کونسل سے نکال دیا گیا ہے۔تاہم رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہرکیا گیا ہیکہ ٹونی بلیئر غزہ میں اب بھی کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹونی بلیئر کا نام غزہ امن کونسل کے لیے تجویز کیا تھا۔ ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ میں عالمی رہنماؤں کی شمولیت کا اعلان آئندہ سال کے اوائل میں کرنے کی تجویز دیدی۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ کئی رہنما بورڈ میں شامل ہونا چاہتے ہیں البتہ غزہ امن بورڈ میں کون سے عالمی رہنما خدمات انجام دیں گے اس کا اعلان اگلے سال کے اوائل میں کیا جانا چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا اعلان ا یونٹس کی کے لیے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز