data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251211-01-21
غزہ /تل ابیب (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی دباؤ پر اسرائیل نے غزہ امداد کے لیے اردن کی سرحد کھول دی۔اردن کے ساتھ ایلینبی کراسنگ کو غزہ کے امدادی سامان اور تجارتی اشیا کی آمد و رفت کے لیے 23 ستمبرکو بند کیا گیا تھا۔ اسرائیلی سیکورٹی حکام نے بتایا کہ کراسنگ کھلنے کے بعد ڈرائیورز اور کارگو ٹرکس کی سخت اسکریننگ کی جائے گی اور اس حوالے سے خصوصی سیکورٹی فورس بھی تعینات کر دی گئی ہے۔ 10 اکتوبر کے معاہدے کے باوجود غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں سے اب تک 370 سے زاید فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی فوج کمزور اور نازک سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔ بدھ کے روز غزہ کے مختلف علاقوں میں فائرنگ اور زمینی پیش قدمی کے دوران مزید 3 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ شدید بارش نے پورے علاقے میں قائم ہزاروں خیموں کو غرق کر کے بے گھر عوام کی مصیبتوں میں مزید اضافہ کر دیا۔بلدیہ غزہ کے ترجمان حسنی مہنا نے خبردار کیا ہے کہ موسمی طوفان اور سردی کی لہریں اب لاکھوں شہریوں، خصوصاً ان بے گھر خاندانوں کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکی ہیں جو ایسے پناہ گزین کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں جہاں کسی بھی قسم کی حفاظتی سہولت موجود نہیں۔ فلسطینی اسیران کے امور کی تنظیموں نے اعلان کیا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم کے بلدہ حوسان سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ فلسطینی نوجوان عبدالرحمن سفیان قابض اسرائیل کی جیل میں بہیمانہ تشدد سے شہید ہو گئے۔ قابض اسرائیلی فوج نے بدھ کی صبح غرب اردن کے مختلف علاقوں میں گرفتاریوں کی بڑی مہم چلائی اور 17 فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا گیا۔وزارت اوقاف اور حقوقِ انسانی کی تنظیموں کے مطابق غزہ کے ہزاروں مقابر ٹینکوں، بلڈوزروں اور فضائی بمباری سے مسمار یا بدترین انداز میں روند دیے گئے۔ دستیاب سیٹلائٹ تصاویر بتاتی ہیں کہ کم از کم 16 مرکزی قبرستان شدید تباہی سے دوچار ہوئے جن میں تاریخی دفن گاہیں، بین الاقوامی اہمیت کی قبریں، پناہ گزین کیمپوں کے قبرستان اور گنجان آباد رہائشی علاقوں کی دفن گاہیں شامل ہیں۔ حماس کے سینئر رہنما اور خارجہ امور کے سربراہ خالد مشعل نے ایک حالیہ انٹرویو میں اسرائیل کے ساتھ غزہ جنگ بندی معاہدے کے مستقبل پر کھل کر گفتگو کی ہے۔ الجزیرہ عربی کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ حماس کے غیر مسلح ہونے کا مطالبہ ناقابل قبول ہے کیوں یہ تنظیم کی روح نکالنے جیسا ہے‘ البتہ حماس غزہ سے اسرائیل پر مستقبل میں حملوں کو روکنے کے لیے اقدامات پر آمادہ ہے جس کے لیے اسرائیلی اقدامات کو دیکھنا ہوگا‘ حماس غزہ میں کسی بھی ایسی حکومت کو تسلیم نہیں کرے گی جس میں فلسطینیوں کی نمائندگی نہ ہو۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ کے کے لیے

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم