لاہور (نیوز رپورٹر) گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے کہا کہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں ہمیںبلا تفریق اپنے حصہ کی شمع روشن کرنی ہے۔ یہ نہیں دیکھنا کہ میرے کچھ کرنے سے کونسا ملک ٹھیک ہوجائے گا۔ اگرآ پ کا ضمیرمطمئن ہے تو اس سے بڑھ کر کوئی شے نہیں۔ (نیب)کو قانونی تقاضے پورے کرنے کے ساتھ لوگوں کی عزت نفس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔ خوشحال اور مستحکم پاکستان کے لئے تعلیم، صحت اور توانائی سمیت مفاد عامہ کے منصوبوں پرتوجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور میں قومی احتساب بیورو (نیب)کے زیر اہتمام انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنر نے کہا کہ بدعنوانی صرف قانونی مسلہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک معاشرتی ، اخلاقی اور ترقیاتی چیلنج بھی ہے جو ہر سطح پر ہمیں متاثر کرتا ہے۔ یہ عوام کے اعتماد کو کمزور کرتی ہے، ترقی کی رفتار سست اور انصاف کے اصولوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔ ہم سب کو مل کر اس کے خلاف بھرپورجدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈی جی نیب کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ نیب لاہور کا ادارہ بد عنوانی کے تدارک کے لئے نہ صرف مصروف عمل ہے بلکہ انتہائی مختصر وقت میں قابل قدر کامیابیاں بھی حاصل کر چکا ہے۔ پیپلز پارٹی کا منشور اس بات کی حمایت کرتا ہے کہ پاکستان میں آزاد، غیر جانبدار اور مضبوط ادارے ہونے چاہئیں جو بدعنوانی کی تحقیقات ہر سطح پر بلا تفریق سرانجام دیں۔ تقریب میں ڈائریکٹر جرنل قومی احتساب بیورو(نیب) مرزا فاران بیگ، قومی احتساب بیورو کے نمائندگان، اراکین سول سوسائٹی ، تعلیم اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افرد موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔

درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔

(جاری ہے)

تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔

عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم 
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی