درختوں کی کٹائی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، یہ ایسے نہیں چل سکتا: عدالت
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
---فائل فوٹو
لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ درختوں کی کٹائی کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، یہ ایسے نہیں چل سکتا، تصاویر موجود ہیں جس میں درخت کٹے نظر آتے ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے اسموگ تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
عدالت نے متعلقہ محکموں سے پیش رفت رپورٹس طلب کرتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ فضائی معیار میں بہتری آئی ہے، بڑی گاڑیوں پر جاری کریک ڈاؤن اچھا اقدام ہے، جاری رہنا چاہیے۔
لاہورہائی کورٹ میں اسموگ تدارک کے حوالے سے دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران عدالت نے اپنمے ریمارکس میں کہا کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ بار بار کہنےکےباوجود درخت کیسے کٹ جاتےہیں؟
دورانِ سماعت لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ ڈی جی پی ایچ اے خصوصی ٹیم مقرر کریں اور درختوں کی کٹائی کے معاملے کی انکوائری کریں، پی ایچ اے درختوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے لیے پالیسی سے متعلق رپورٹ دے۔
عدالت نے حکم دیا کہ ایل ڈی اے، پی ایچ اے اور محکمہ ماحولیات کی ٹیم بنا کر لوگوں سے بات کریں، جو لوگ تحفظات کا اظہار کرتے ہیں ان کو بلا کر میٹنگ کریں، ان کو گائیڈ کریں کہ ان پراجیکٹس سے فائدہ کیا ہو گا۔
بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت ایک ہفتےکے لیے ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔
متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔
خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔
متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔
عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔