انتخابی نظام سے متعلق 36 سال پرانا کیس، وفاق نے اپیلیں واپس لے لیں
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بینچ نے انتخابی نظام کو غیراسلامی قرار دینے سے متعلق 36 سال پرانے کیس کی سماعت کے دوران وفاقی حکومت کی اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دیں۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ
سماعت کے آغاز میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف 1989 میں دائر کی گئی اپیلیں واپس لینا چاہتی ہے کیونکہ وہ اب غیرمؤثرہوچکی ہیں۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مزید بتایا کہ شریعت کورٹ نے جس قانون کے نکات پراعتراض اٹھایا تھا وہ قانون اب ختم ہوچکا ہے، جبکہ اس وقت انتخابات کے حوالے سے الیکشن ایکٹ 2017 نافذالعمل ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ: موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
ان کے مطابق اس بنا پر حکومت سمجھتی ہے کہ اپیلیں برقرار رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں رہا۔
عدالت نے وفاق کی جانب سے اپیلیں واپس لینے کی درخواست منظور کرتے ہوئے کیس نمٹا دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکشن ایکٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ وفاقی حکومت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الیکشن ایکٹ ایڈیشنل اٹارنی جنرل سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ وفاقی حکومت اپیلیں واپس سپریم کورٹ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔