یوکرین: اینٹی کرپشن حکام کا زیلنسکی کے چیف اسٹاف کے گھر پر چھاپہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
یوکرین(ویب ڈیسک) صدر زیلنسکی کی پشت پر انکے چیف آف اسٹاف آندرے یرماک کھڑے ہیں جنکے گھر اینٹی کرپشن حکام نے جمعہ کو چھاپہ مارا، حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک جاری تحقیقات کا حصہ ہے۔نیشنل اینٹی کرپشن بیورو (این اے بی یو) اور اسپیشلائزڈ اینٹی کرپشن پراسیکیوٹر آفس (ایس اے پی او) نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ تفتیشی کارروائیاں باقاعدہ اجازت کے بعد کی جا رہی ہیں۔
آندرے یرماک نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی ہے کہ چھاپے کے دوران وہ مکمل تعاون کر رہے ہیں، یہ کارروائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوکرین میں سرکاری جوہری توانائی کمپنی میں 10 کروڑ ڈالر کی مبینہ رشوت اسکینڈل کی تحقیقات جاری ہیں۔
اس تحقیقات میں سابق اعلیٰ حکام اور زیلنسکی کے سابق کاروباری ساتھیوں کے نام سامنے آئے ہیں۔ اگرچہ آندرے یرماک کو باضابطہ طور پر ملزم قرار نہیں دیا گیا، لیکن اپوزیشن اور حکمران جماعت کے بعض اراکین ان کی برطرفی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
یہ چھاپے ایسے وقت پر مارے گئے ہیں جب کیف حکومت پر امریکا کی حمایت یافتہ امن تجویز قبول کرنے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں