سی آئی اے پولیس کی کامیاب کارروائی، مغوی بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
سی آئی اے کے اینٹی وائلنٹ کرائم سیل پولیس نے کراچی سے ہنی ٹریپ کے ذریعے اغوا ہونے والے شخص کو اندرون سندھ کے علاقوں گھوٹکی، کشمور کے کچہ سے بازیاب کروا لیا۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت اور اسرائیل کا پاکستان کے ایٹمی مرکز پر حملے کا خفیہ منصوبہ کیا تھا؟ سابق سی آئی اے افسر کا انکشاف
مورخہ 21 جون 2025 کو کراچی کے علاقے قائدآباد سے محمد معین الدین ولد محمد یوسف عمری (70 سالہ) کو سستا اسکریپ بیچنے کے جھانسے میں اغوا کیا گیا تھا۔ اغواکاروں نے اس کی رہائی کے بدلے میں 2 کروڑ روپے، 2 راڈو گھڑیاں اور 2 آئی فونز بطور تاوان طلب کیے تھے۔
مقدمہ نمبر 373/25 کے تحت دفعہ 365A PPC تھانہ قائدآباد میں درج کیا گیا، جس کی تفتیش بعد میں AVCC/CIA کراچی کو منتقل کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:اسامہ بن لادن عورت کا روپ دھار کر فرار ہوا، سابق سی آئی اے افسر کا دعویٰ
ایس ایس پی اینٹی وائلنٹ کرائم سیل، سی آئی اے کراچی کی نگرانی میں تشکیل دی گئی پولیس ٹیم نے ٹیکنیکل اور ہیومن انٹیلیجنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے محمد معین الدین کو باحفاظت بازیاب کروا لیا۔
بازیابی کے بعد مغوی اور مدعی مقدمہ نے ایس ایس پی AVCC/CIA کراچی اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اینٹی وائلنٹ کرائم سیل تاجر سی آئی اے کشمور گھوٹکی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اینٹی وائلنٹ کرائم سیل تاجر سی ا ئی اے گھوٹکی سی ا ئی اے
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔