انتخابات کے نتائج عراقی عوام میں شعور اور بیداری کا واضح ثبوت ہیں، آیت اللہ سید یاسین الموسوی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
محورِ مقاومت کے بارے میں بغداد کے امام جمعہ نے کہا کہ سید حسن نصراللہ اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں کی شہادت نے، دشمن کے پروپیگنڈے کے برعکس، نہ صرف مزاحمت کو کمزور نہیں کیا بلکہ اس کی یکجہتی اور قوت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بغداد کے امام جمعہ آیت اللہ سید یاسین الموسوی نے کہا ہے کہ عراق کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کے نتائج اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عراقی عوام میں شعور اور بیداری بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر خطے کے لیے صہیونی حکومت کے خطرناک منصوبے کے بارے میں بھی خبردار کیا۔ آیت اللہ الموسوی کا کہنا تھا کہ حالیہ انتخابات کے نتائج عراقی قوم کی آگاہی اور بصیرت کا روشن پیغام ہیں، وہ سیاسی گروہ جو خود کو ’’ترقی پسند‘‘ کہتے ہیں اور جنہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے، تقریباً چار سو امیدوار رکھنے کے باوجود صرف ایک نشست حاصل کر سکے۔
ان کے مطابق یہ گروہ آزادی کے نام پر عراقی پارلیمنٹ کی دینی شناخت کو بدلنے اور معاشرتی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش میں تھا، لیکن عوام کی بصیرت نے اس منصوبے کو ناکام بنا دیا اور ایک بار پھر عراق کی آزاد اور خودمختار شناخت کو مضبوط کیا۔ بغداد کے امام جمعہ نے کہا کہ نئے پارلیمنٹ میں شیعہ نمائندوں کی تعداد 197 تک پہنچ گئی ہے اور پہلی بار یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ حکومت کے تینوں اہم ستون اہل تشیع سے ہی منتخب ہو سکتے ہیں۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکہ کا دباؤ اب بھی ایک ایسی حقیقی جمہوریت کی تشکیل میں رکاوٹ ہے جو اکثریت کے ووٹ پر قائم ہو۔
انہوں نے سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ وہ آئندہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے واضح معیار طے کریں، ایک ایسا وزیراعظم جو دیندار، باصلاحیت، طاقت و دولت کی کشش سے محفوظ، اور ملک کو چلانے کے لیے قابلِ عمل اصلاحاتی پروگرام رکھتا ہو۔ آیت اللہ الموسوی نے غزہ اور لبنان کی حالیہ صورتحال کو امریکہ اور اسرائیل کے اس مشترکہ منصوبے کا حصہ قرار دیا جو خطے کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے لیے بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد خطے میں اسرائیلی حکومت کو مرکزی سیاسی اور سکیورٹی محور کے طور پر مضبوط کرنا ہے، نیا منصوبہ بھی خطے میں اثر و رسوخ کی نئی تقسیم اور سیاسی سرحدوں کی دوبارہ ترتیب دینے کا حصہ ہے، اور کوششیں کی جا رہی ہیں کہ عراق کو بھی اس محور کا حصہ بنایا جائے۔
محورِ مقاومت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سید حسن نصراللہ اور دیگر مزاحمتی رہنماؤں کی شہادت نے، دشمن کے پروپیگنڈے کے برعکس، نہ صرف مزاحمت کو کمزور نہیں کیا بلکہ اس کی یکجہتی اور قوت کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ ہفتوں میں قتل و غارت اور فضائی حملوں کے ذریعے لبنان پر نئی سیاسی و عسکری حقیقتیں مسلط کرنے کی کوشش کی، مگر اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ آیت اللہ الموسوی نے یہ بھی کہا کہ مزاحمت کے خاتمے کا دعویٰ بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ آنے والے دن اسرائیل کے اس خطرناک جوا کے نتائج واضح کر دیں گے۔ انہوں نے کہا: ’’جواب راستے میں ہے، اور کل اتنا قریب ہے کہ تصور سے بھی زیادہ نزدیک معلوم ہوتا ہے۔‘‘
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آیت اللہ کے نتائج انہوں نے نے کہا کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔