data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے واضح اعلان کر دیا ہے کہ ای چالان کا نظام صرف کراچی کے شہریوں کے لیے ہے اور حکومت اس میں کسی قسم کی نرمی یا جرمانے کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

انہوں نے  کہا کہ کراچی کو بہتر نظم و نسق، جدید شہری انتظام اور نظم و ضبط کی جانب لے جانے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں اور جو شہری قوانین پر عمل نہیں کریں گے وہ پابند ہوں گے کہ مقررہ فیس اور جرمانے ادا کریں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے بتایا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے اہم اجلاس میں شہر کے مختلف ڈویژنز میں بورڈ کو زیادہ فعال بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جا بجا کچرا جمع ہوتا ہے، اس لیے گھروں سے باقاعدہ کچرا اٹھانے کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت شہر کے ہر حصے میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور اگلے چند ہفتوں میں واضح تبدیلیاں سامنے آنا شروع ہو جائیں گی۔

سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے وزیر بلدیات نے کہا کہ بعض جماعتیں محض سیاسی فائدے کے لیے ایسے بیانات دیتی رہتی ہیں جو زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتے۔ انہوں نے خاص طور پر ایم کیو ایم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو مضبوط دکھانے کے لیے مختلف قسم کی باتیں اچھالتی رہتی ہے۔

ناصر شاہ نے کہا کہ انہوں نے ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت سب سے رابطہ کیا ہے، مگر بعض عناصر پرانی روش سے باز نہیں آتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر موسم گرم ہوتا تو شاید انہیں ٹھنڈا شربت پلا کر بات سمجھانے کی کوشش کرتے، لیکن فی الحال انہیں ایسی باتوں پر ہی رہنے دیں۔

ای چالان کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ یہ نظام کراچی کے شہریوں پر ہی لاگو رہے گا اور اس کے جرمانوں میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی۔ اگر کراچی کو صاف، محفوظ اور قانون کے مطابق چلنے والا شہر بنانا ہے تو سب کو مل کر قوانین پر عمل کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ لوگ اکثر جرمانوں میں کمی کی توقع رکھتے ہیں مگر ایسا کرنے سے شہر میں قانون شکنی کے رجحانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

بلدیاتی نظام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت لوکل گورنمنٹ کو مکمل بااختیار بنانے کی جانب بڑھ رہی ہے، لیکن بعض جماعتیں اس عمل سے مسلسل پیچھے ہٹتی رہی ہیں۔ انہوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کر چکی ہے، جب کہ پی ٹی آئی نے پنجاب میں پورا بلدیاتی نظام ہی ختم کر دیا تھا، جس سے شہری انتظام کو بہت نقصان پہنچا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی