Jasarat News:
2026-07-24@02:45:56 GMT

در مدح ’’نا‘‘

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

باباالف
وزیراعظم اُسے کہتے ہیں جب ’’ہاں‘‘ کہے تو اس سے مراد ’’فوج کے شانہ بشانہ‘‘ ہونے کا اظہار ہو، جب ’’شاید‘‘ کہے تو اس کا مطلب ’’یقین جانیے‘‘ ہو اور جب ’’ناں‘‘ کہے تو اس کا مطلب ہے وہ وزیراعظم۔۔ شہباز شریف نہیں ہیں۔۔ وہ کئی زبانیں بول سکتے ہیں لیکن کسی بھی زبان میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ناں کہنے کی جرأت نہیں کرتے۔ تاہم کئی دن پہلے جب 27 ویں ترمیم کی آشفتگی میں انہوں نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور صدر مملکت آصف علی زرداری کے برخلاف تا حیات عدالتی استثنیٰ لینے سے انکار کیا تو ہمیں خواب سا لگا۔ کیا واقعی۔۔ اس نے آندھی کے سامنے جھک کر۔۔ صبر اور گہری بے اعتنائی کا اظہار کیا ہے۔۔ کیا واقعی۔۔ اس نے جنرل اور صدر کو گزرنے دیا ہے۔۔ اور پھر سے سوچ میں ڈوب گیا۔۔۔ اللہ کی شان ہے۔۔ وہ قادر مطلق ہے۔۔ سب کچھ کرسکتا ہے۔۔ شہباز شریف بھی دلیر ہوسکتے ہیں۔۔ آتش نمرود میں بے خطر اور تاحیات گرنے کا عزم کرسکتے ہیں۔ لگتا ہے فیض صاحب کروٹیں بدل رہے ہیں۔

جن کا دیں پیروی کِذب و ریا ہے ان کو
ہمتِ کفر ملے، جرأتِ تحقیق ملے
جِن کے سر منتظر تیغِ جفا ہیں اُن کو
دستِ قاتِل کو جھٹک دینے کی توفیق ملے

استثنیٰ سے انکار کرکے وزیراعظم شہباز شریف نے جس ’’خود مختاری‘‘ کا اظہار کیا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے کسی دیار فرنگ کے پیدائشی کو اپنے والد کا پتا لگ جائے۔ جنرلوں کے مقابل خود مختاری ہمارے اہل سیاست کی گم شدہ شناخت ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی خواب سے جاگ اٹھے اور کہے وزیراعظم کا حلقہ انتخاب اس کے عوام ہیں۔ وہی اس کا احتساب کرسکتے ہیں نہ کہ کوئی عدالت، کوئی قاتل، کوئی جج، کوئی دست جفا۔ کسی سیاست دان کا یہی وہ شیرہ اقتدار ہے جو اسے جنرلوں اور خود غرض سیاست دانوں سے ممتاز کرتا ہے۔ ثابت ہوا کہ سیاست دانوں میں اچھے کردار والے بھی ہوسکتے ہیں۔ پہلوان، طوائف اور سرکاری افسر سے الگ اور مختلف جسے بعداز پیشہ اپنا بڑھاپا خراب وخوار محسوس نہیں ہوتا۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ۔۔ لیکن۔۔ کیا واقعی یہ انکار اصولی ہے؟ یا پھر 27 ویں ترمیم کے موقع پر جنرلوں سے اپنے ازار بندی رشتے کا انکار کرکے، اپنی راہ الگ تراش کر طاقت کے کسی ممکنہ نئے توازن میں شہباز شریف نے عوام کی نظروں میں اپنی جگہ پکی کرنے کی کوئی چال چلی ہے؟؟ اگلے الیکشن میں عوامی منظر نامہ تبدیل ہونے کے باوجود بھی وہ منظر میں رہنا چاہتے ہوں۔

اقتدار کی ہر ضمانت دستیاب ہونے کے باوجود شہباز شریف اب بھی اپنی پیٹھ پر عمران خان کی آتشی جلن محسوس کرتے ہیں۔ عوام کی نظر میں عمران خان اب بھی ہارٹ بریکر اور ڈریم میکر ہیں۔ 27 ویں ترمیم کے ذریعے جس طرح جنرلوں کی گرفت مضبوط ہوئی ہے عوام اپنے خواب جنرلوں سے منسوب ہوتے دیکھ کر ابھی تو متذبذب ہیں لیکن کچھ پتا نہیں کب برسر احتجاج آجا ئیں۔ کب عمران خان کا جادو سر پر چڑھ کر ناچنے لگے۔ بھارت سے جنگ مئی میں پاک فوج نے جس پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کیا ہے، جن رفعتوں سے ملک کو ہم کنار کیا ہے، مودی کو خاک چٹائی ہے، دنیا بھر سے خراج تحسین وصول کیا ہے، شجاعت و سرفروشی اور جاں بازی کی تاریخ رقم کی ہے، اس کی وجہ سے عوام کے دل فوج کے ساتھ ساتھ دھک دھک کررہے ہیں لیکن راج سنگھاسن کا کچھ اعتبار نہیں۔ ایک چھوٹی سی چنگاری کب بھڑک کر سب کچھ خا کستر کردے کچھ پتا نہیں۔ ایسے میں ایک نکی جئی ناں، استثنیٰ نہیں چاہیے کی لگام عوامی نفسیات کو تھامنے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ آخر عوام کے پاس جانے کا کوئی تو بہانہ ہو؟

پاکستان کی سیاست اور ریاست کی اور اس کے اداروں کی جو نئی صورت گری ہورہی ہے اس میں فوج پس منظر میں رہ کر ارمان پورے کرنا چاہتی ہے۔ وہ اداروں، بیانیوں اور سیاسی چہروں کے ذریعے اقتدار پر گرفت رکھ رہی ہے۔ اب ٹرپل اے بریگیڈ ایوان وزیراعظم کے گیٹ پر چڑھی نظر آنا چاہتی ہے اور نہ ایوان وزیراعظم کے اندر۔ وہ جمہوریت کے سارے خوابوں کو خود جمہوریت کے ذریعے شکست دینا چاہتی ہے۔ ایسا پاکستان میں نہیں دنیا میں اکثرو بیش تر ہورہا ہے۔ جمہوریت کی ناکامی سب جگہ عیاں ہے۔ جمہوریت اب حقیقت نہیں ایک وہم اور فینٹسی ہے۔ اس کی رفوگری نہیں، صفائی نہیں، صفایا ہورہا ہے۔ ایک نیا نظام اس کی جگہ لے رہا ہے۔ جس میں وزیراعظم کا عہدہ ایک ایسا سایہ ہے ہر فائل کے کونے پر جس کے نظر آنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ شہباز شریف استثنیٰ کی خودمختاری دکھا کر اسے اختیار کا مترادف ظاہر کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ طوائف بیوروکریٹ سے بہتر ہوتی ہے اور سیاست دان فوج سے وہ پرائم منسٹر ہائوس کی دیوار پر قدآدم یہی لکھوانا چاہتے ہیں۔

پہلے ہم شہباز شریف کو بحیثیت مقرر بہت ہلکا لیتے تھے۔ بحیثیت مقرر ان کی سب سے شاندار پر فارمنس وہ تھی جب انہوں نے ہاتھ نچا نچا کر زرداری صاحب کا پیٹ پھاڑنے اور سڑکوں پر گھسیٹنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آگے لگے مائیک ادھر اُدھر پھینک دیے تھے۔ اس وقت وہ فن مقرری کی ایسی فیکٹری تھے جسے جتنا جلد ضبط کرلیا جاتا شر۔ آفت کے عین مطابق ہوتا۔ بحیثیت سیاست دان ان کی شاندار پرفارمنس وہ تھی جب وہ عمران خان کی جیل میں تھے۔ عمران خان خود کو تا حیات وزیراعظم اور اپوزیشن کو تا حیات جیل کی چکی پیستے دیکھتے تھے۔ شہباز شریف نے اس وقت نہ صرف اپنے اندر کے سکوت اور سیاست کو رہنما بنایا، نوازشریف کے مشورے سے گریز کیا اور اندر ہی رہتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ سے وہ رشتے استوار کیے کہ آج وہ ایوان وزیراعظم کے اندر اور جیل سے باہر ہیں اور عمران خان جیل کے اندر اور ایوان وزیراعظم سے باہر۔

عمران خان ہوں، شہباز شریف ہوں، گرامی قدر جرنیل ہوں یا پھر گروہ مصنفین، سانسوں کی ہانپتی آندھیوں، زندگی کی کچلی وحشتوں کو ان کی ہاں پر یقین ہے اور نہ ناں پر۔ بے چہرہ سورما جیل کے اندر ہوں یا جیل کے باہر، جی ایچ کیو میں ہوں یا عدل کے ایوانوں میں سب تا حیات کیلے کے چھلکے پر پھسلنے کو انجوائے کرنا اور اس پر سے گرنے کو سجدہ برائے فلاح عوام باور کرانا چا ہتے ہیں۔

آہ یہ فانی دنیا
بھول جانے والے لوگ
ختم ہو جانے والی لذتیں
مٹ جانے والے نام
وقتی خوشیاں، عارضی مسرتیں
رک جانے والی سانسیں
اور پھر
کل نفس ذائقۃ الموت

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایوان وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار تا حیات کے اندر کیا ہے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری