ترامیم کے بعد بھی حکمران قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک میں اس وقت 27ویں ترمیم کی گونج ہے، اس کے بعد 28ویں 29 ویں اور 30ترامیم آئیں گی، مگر حکمران ان ترامیم کے بعد بھی قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ جماعت اسلامی نے ایسی تمام ترامیم کو مسترد کر دیا ہے وہ وقت جلد آنے والا ہے جب یہ ترامیم واپس ہوں گی۔ جب عوام کے جمہوری حقوق سلب کیے جائیں گے تو لوگوں کے اندر مایوسی اور انارکی پھیلے گی جس کی ذمہ دار کوئی حکومت نہیں ریاست ہو گی۔ ملک میں ظلم کا نظام ہے اور یہ طاقتور کے ہاتھ کی چھڑی بن چکا ہے۔ جماعت اسلامی کا اجتماع عام اس نظام کو بدلنے کی تحریک کا نقطہ آغاز ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قائم مقام صدر لاہور پریس کلب افضال طالب، سیکرٹری زاہد عابد، اراکین گورننگ باڈی اور ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی ساجد ناموس بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکمرانوں نے اگر عدل و انصاف کے دروازے بند کر دیے تو پھر عدالتیں چوکوں اور چوراہوں میں لگیں گی جس سے انارکی پیدا ہو گی۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان انتخابات کے نتیجے میں ہارس ٹریڈنگ سے بھی کوئی بڑی چیز آئے گی۔ ہم ان غیرجماعتی الیکشن کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے طے کر لیا ہے کہ سیاسی جماعتوں سے بات کرے گی، مگر الیکشن اپنے نشان پر لڑے گی۔ 21تا 23نومبر کو مینار پاکستان کے سبزہ زار میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ جمع ہوں گے اور پاکستان کو ایک حقیقی اسلامی اور جمہوری ریاست بنانے کے عزم کے ساتھ نظام کو بدلنے کی تحریک کا آغاز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ چالیس ممالک کے دو سو سے زائد نمائندہ وفود اجتماع عام میں شرکت کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔