WE News:
2026-07-24@07:26:21 GMT

پاک افغان تناؤ، جے شنکر کے بیان سے امید باندھیں؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

سنہ 2021 میں افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد گزشتہ 4 برسوں میں پاک افغان تجارت کا مجموعی حجم ایک ارب 48 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر ایک ارب 99 کروڑ ڈالر تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس دوران پاکستان کی افغانستان کو ایکسپورٹ زیادہ رہی اور افغانستان کی پاکستان کو ایکسپورٹ  نسبتاً کم رہی۔ باہمی تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں 196 ملین ڈالر سے بڑھ کر 574 ملین ڈالر تک رہا ہے۔

پاکستان کے حق میں تجارتی توازن کی  کمترین سطح سنہ 2022 میں نوٹ کی گئی۔ اس سال پاکستانی سر پلس صرف 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہ گیا تھا  اس سال پاکستان نے افغانستان سے بڑی مقدار میں کوئلہ منگوایا تھا تو افغانستان کا خسارہ بہت کم رہ گیا تھا۔

پاکستان سے افغانستان کو سب سے زیادہ چاول برآمد کیے جاتے ہیں جن کی مالیت 20 سے 40 کروڑ ڈالر سالانہ ہے، اس کے بعد ادویات 10 سے 13  کروڑ ڈالر، 5 سے 6  کروڑ ڈالر کا سیمنٹ، تقریباً 7 کروڑ ڈالر کی سبزیاں، خصوصاً آلو، اور 5 سے 8  کروڑ ڈالر مالیت کی دیگر فوڈ آئٹمز افغانستان بھیجی جاتی ہیں۔

افغانستان سے پاکستان کو 10 سے 20 کروڑ ڈالر کا کوئلہ، 12 سے 13 کروڑ ڈالر کی کاٹن، 5 سے 6 کروڑ ڈالر کے انگور، تقریباً 4 کروڑ ڈالر کے ٹماٹر، اور 4 سے 7 کروڑ ڈالر مالیت کا پیاز درآمد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تبدیل ہوتا سیکیورٹی ڈومین آئینی ترمیم کی وجہ؟

ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے بھی پاکستان افغانستان کے لیے سب سے بڑا راستہ رہا ہے، طالبان کے دور میں 2022 میں افغانستان نے پاکستان کے راستے 7 ارب ڈالر مالیت کا سامان منگوایا جو اگلے سال کم ہو کر 3 ارب ڈالر اور بعد میں مزید کم ہوکر کر 1 ارب 70 کروڑ ڈالر تک رہ گیا لیکن سنہ 2025 میں اس ٹرانزٹ تجارت میں دوبارہ 78 فیصد اضافہ تک دیکھنے میں آیا ۔ باڈر کی بندش سے یہ دوبارہ گر کر اب ایک ارب ڈالر تک رہ سکتا ہے ۔

افغان نائب وزیراعظم اور وزیر برائے اقتصادیات ملا عبدالغنی برادر نے حال ہی میں افغان تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان سے درآمدات اور برآمدات بند کرنے کی تیاری کریں اور آئندہ 3 ماہ کے اندر متبادل مارکیٹوں کی تلاش مکمل کریں۔

افغانستان کے لیے ایکسپورٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ پاکستان ہی ہے۔ قندھار انتظامیہ نے تاجروں کو 3 ماہ کے اندر پاکستانی اشیا مارکیٹوں سے ہٹانے کا نوٹس دیا ہے۔ نوٹس دینے کے ایک ہفتے بعد ہی مارکیٹ میں اس حوالے سے سختی شروع کر دی گئی ہے۔

ملا برادر کے اعلان سے صرف پاک افغان تجارت ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ وسطی ایشیا کے ملکوں تک بھی اس کے اثرات ہوں گے کیونکہ پاکستان کے تاجر افغانستان کے راستے ہی وسطی ایشیا تک سامان پہنچاتے ہیں، روزانہ 600 سے 1000 کے قریب  ٹرک پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے اکثر کی منزل زیادہ تر افغانستان سے آگے وسطی ایشیا کے ممالک ہوتے ہیں۔

افغان طالبان ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو پاکستان کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں بھارت کو حال ہی میں امریکا نے 6 ماہ کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ دیا ہے۔ فروری 2024 سے افغانستان اس پورٹ میں 35 ملین ڈالر کی محدود سرمایہ کاری کا اعلان بھی کر چکا ہے۔

افغانستان کی وزارت تجارت کے ترجمان اخوندزادہ عبدالسلام جواد نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے 8 ہزار کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ جواد کا کہنا تھا کہ چاہ بہار سے سامان کی ترسیل میں پہلے دو ماہ لگتے تھے، اب یہ وقت کم ہو کر سترہ دن رہ گیا ہے۔

مزید پڑھیے: افغانستان میں پختون برتری کا خاتمہ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟

سال 2024 میں افغانستان نے چاہ بہار کے ذریعے 127 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کی ہے۔ جواد کا یہ بھی کہنا تھا کہ چاہ بہار ہمارے لیے کسی (پاکستان) کا متبادل نہیں، بہت سے روٹس میں ایک روٹ ہے۔

پاکستان کے ساتھ تجارت کھلی رکھنے کے لیے بات چیت جاری ہے اور یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

پاکستان افغانستان جس سمت چل پڑے ہیں۔ اس کا نقصان صرف ان 2 ملکوں تک محدود نہیں رہے گا۔ سنٹرل ایشیا اور جنوبی ایشیا میں کنیکٹیوٹی کے پراجیکٹ متاثر ہونگے۔ روسی انٹرسٹ کو نقصان پہنچے گا۔ ایران کے پاکستان سے بہتر ہوتے تعلقات کے لیے بھی نئے چیلنج سامنے آئیں گے۔ قطر اور ترکی کی ثالثی کوشش میں ناکامی کے بعد اب ایران اور روس دونوں نے پاکستان افغانستان کو ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔

اس پیشکش کا ایک دلچسپ اینگل یہ بھی ہے کہ ایران اور روس دونوں کے انڈیا کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ انڈین وزیر خارجہ جے شنکر شنگھائی ہیڈ آف گورنمنٹ اجلاس کے لیے ماسکو پہنچے ہیں۔ ایران اور روس دونوں ہی اس خطے کو دوبارہ اوپر نیچے ہونے کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس کے لیے یقینی طور پر دونوں ملک انڈیا سے بھی بات کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک افغان مذاکرات کی ناکامی، افغان طالبان کو فیل کرے گی

ہیڈ آف گورنمنٹ اجلاس میں جے شنکر نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے بنیادی 3 مقاصد کی طرف لوٹے۔ یہ 3 مقاصد شدت پسندی ، دہشتگردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف ایک علاقائی اتحاد تھا جس کا نام شنگھائی تعاون تنظیم رکھا گیا۔

جے شنکر کی اس بات پر ہی اگر رک کر سوچیں تو امید باندھنی بنتی ہے۔ ہمارے بدقسمت خطے میں امیدیں ٹوٹنے کے لیے ابھرتی اور تحلیل ہوتی ہیں۔ پھر بھی کچھ وقت کے لیے اچھا سوچ لیتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

افغانستان بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاک افغان تعلقات پاک افغان مذاکرات پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاک افغان تعلقات پاک افغان مذاکرات پاکستان پاکستان کے پاکستان سے ملین ڈالر پاک افغان میں افغان کروڑ ڈالر چاہ بہار ڈالر تک ڈالر کی کے ساتھ رہ گیا کے لیے

پڑھیں:

افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم

افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA

— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026

اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا

طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔

آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

افغانستان سیلاب نورستان

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے