WE News:
2026-06-02@23:20:00 GMT

پاک افغان تناؤ، جے شنکر کے بیان سے امید باندھیں؟

اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT

سنہ 2021 میں افغان طالبان کی کابل واپسی کے بعد گزشتہ 4 برسوں میں پاک افغان تجارت کا مجموعی حجم ایک ارب 48 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر ایک ارب 99 کروڑ ڈالر تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس دوران پاکستان کی افغانستان کو ایکسپورٹ زیادہ رہی اور افغانستان کی پاکستان کو ایکسپورٹ  نسبتاً کم رہی۔ باہمی تجارت کا توازن پاکستان کے حق میں 196 ملین ڈالر سے بڑھ کر 574 ملین ڈالر تک رہا ہے۔

پاکستان کے حق میں تجارتی توازن کی  کمترین سطح سنہ 2022 میں نوٹ کی گئی۔ اس سال پاکستانی سر پلس صرف 3 کروڑ 10 لاکھ ڈالر رہ گیا تھا  اس سال پاکستان نے افغانستان سے بڑی مقدار میں کوئلہ منگوایا تھا تو افغانستان کا خسارہ بہت کم رہ گیا تھا۔

پاکستان سے افغانستان کو سب سے زیادہ چاول برآمد کیے جاتے ہیں جن کی مالیت 20 سے 40 کروڑ ڈالر سالانہ ہے، اس کے بعد ادویات 10 سے 13  کروڑ ڈالر، 5 سے 6  کروڑ ڈالر کا سیمنٹ، تقریباً 7 کروڑ ڈالر کی سبزیاں، خصوصاً آلو، اور 5 سے 8  کروڑ ڈالر مالیت کی دیگر فوڈ آئٹمز افغانستان بھیجی جاتی ہیں۔

افغانستان سے پاکستان کو 10 سے 20 کروڑ ڈالر کا کوئلہ، 12 سے 13 کروڑ ڈالر کی کاٹن، 5 سے 6 کروڑ ڈالر کے انگور، تقریباً 4 کروڑ ڈالر کے ٹماٹر، اور 4 سے 7 کروڑ ڈالر مالیت کا پیاز درآمد کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تبدیل ہوتا سیکیورٹی ڈومین آئینی ترمیم کی وجہ؟

ٹرانزٹ ٹریڈ کے حوالے سے بھی پاکستان افغانستان کے لیے سب سے بڑا راستہ رہا ہے، طالبان کے دور میں 2022 میں افغانستان نے پاکستان کے راستے 7 ارب ڈالر مالیت کا سامان منگوایا جو اگلے سال کم ہو کر 3 ارب ڈالر اور بعد میں مزید کم ہوکر کر 1 ارب 70 کروڑ ڈالر تک رہ گیا لیکن سنہ 2025 میں اس ٹرانزٹ تجارت میں دوبارہ 78 فیصد اضافہ تک دیکھنے میں آیا ۔ باڈر کی بندش سے یہ دوبارہ گر کر اب ایک ارب ڈالر تک رہ سکتا ہے ۔

افغان نائب وزیراعظم اور وزیر برائے اقتصادیات ملا عبدالغنی برادر نے حال ہی میں افغان تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پاکستان سے درآمدات اور برآمدات بند کرنے کی تیاری کریں اور آئندہ 3 ماہ کے اندر متبادل مارکیٹوں کی تلاش مکمل کریں۔

افغانستان کے لیے ایکسپورٹ کی سب سے بڑی مارکیٹ پاکستان ہی ہے۔ قندھار انتظامیہ نے تاجروں کو 3 ماہ کے اندر پاکستانی اشیا مارکیٹوں سے ہٹانے کا نوٹس دیا ہے۔ نوٹس دینے کے ایک ہفتے بعد ہی مارکیٹ میں اس حوالے سے سختی شروع کر دی گئی ہے۔

ملا برادر کے اعلان سے صرف پاک افغان تجارت ہی متاثر نہیں ہوگی بلکہ وسطی ایشیا کے ملکوں تک بھی اس کے اثرات ہوں گے کیونکہ پاکستان کے تاجر افغانستان کے راستے ہی وسطی ایشیا تک سامان پہنچاتے ہیں، روزانہ 600 سے 1000 کے قریب  ٹرک پاکستان سے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں جن میں سے اکثر کی منزل زیادہ تر افغانستان سے آگے وسطی ایشیا کے ممالک ہوتے ہیں۔

افغان طالبان ایران کی چاہ بہار بندرگاہ کو پاکستان کے متبادل کے طور پر دیکھ رہے ہیں جہاں بھارت کو حال ہی میں امریکا نے 6 ماہ کے لیے پابندیوں سے استثنیٰ دیا ہے۔ فروری 2024 سے افغانستان اس پورٹ میں 35 ملین ڈالر کی محدود سرمایہ کاری کا اعلان بھی کر چکا ہے۔

افغانستان کی وزارت تجارت کے ترجمان اخوندزادہ عبدالسلام جواد نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بارڈر بند ہونے کی وجہ سے 8 ہزار کنٹینر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ جواد کا کہنا تھا کہ چاہ بہار سے سامان کی ترسیل میں پہلے دو ماہ لگتے تھے، اب یہ وقت کم ہو کر سترہ دن رہ گیا ہے۔

مزید پڑھیے: افغانستان میں پختون برتری کا خاتمہ ہوا تو ذمہ دار کون ہوگا؟

سال 2024 میں افغانستان نے چاہ بہار کے ذریعے 127 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کی ہے۔ جواد کا یہ بھی کہنا تھا کہ چاہ بہار ہمارے لیے کسی (پاکستان) کا متبادل نہیں، بہت سے روٹس میں ایک روٹ ہے۔

پاکستان کے ساتھ تجارت کھلی رکھنے کے لیے بات چیت جاری ہے اور یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔

پاکستان افغانستان جس سمت چل پڑے ہیں۔ اس کا نقصان صرف ان 2 ملکوں تک محدود نہیں رہے گا۔ سنٹرل ایشیا اور جنوبی ایشیا میں کنیکٹیوٹی کے پراجیکٹ متاثر ہونگے۔ روسی انٹرسٹ کو نقصان پہنچے گا۔ ایران کے پاکستان سے بہتر ہوتے تعلقات کے لیے بھی نئے چیلنج سامنے آئیں گے۔ قطر اور ترکی کی ثالثی کوشش میں ناکامی کے بعد اب ایران اور روس دونوں نے پاکستان افغانستان کو ثالثی کی پیشکش کر دی ہے۔

اس پیشکش کا ایک دلچسپ اینگل یہ بھی ہے کہ ایران اور روس دونوں کے انڈیا کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں۔ انڈین وزیر خارجہ جے شنکر شنگھائی ہیڈ آف گورنمنٹ اجلاس کے لیے ماسکو پہنچے ہیں۔ ایران اور روس دونوں ہی اس خطے کو دوبارہ اوپر نیچے ہونے کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتے ہیں۔ اس کے لیے یقینی طور پر دونوں ملک انڈیا سے بھی بات کرنے کی اچھی پوزیشن میں ہیں۔

مزید پڑھیں: پاک افغان مذاکرات کی ناکامی، افغان طالبان کو فیل کرے گی

ہیڈ آف گورنمنٹ اجلاس میں جے شنکر نے اپنی تقریر کے آغاز میں کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم اپنے بنیادی 3 مقاصد کی طرف لوٹے۔ یہ 3 مقاصد شدت پسندی ، دہشتگردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف ایک علاقائی اتحاد تھا جس کا نام شنگھائی تعاون تنظیم رکھا گیا۔

جے شنکر کی اس بات پر ہی اگر رک کر سوچیں تو امید باندھنی بنتی ہے۔ ہمارے بدقسمت خطے میں امیدیں ٹوٹنے کے لیے ابھرتی اور تحلیل ہوتی ہیں۔ پھر بھی کچھ وقت کے لیے اچھا سوچ لیتے ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

افغانستان بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاک افغان تعلقات پاک افغان مذاکرات پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر پاک افغان تعلقات پاک افغان مذاکرات پاکستان پاکستان کے پاکستان سے ملین ڈالر پاک افغان میں افغان کروڑ ڈالر چاہ بہار ڈالر تک ڈالر کی کے ساتھ رہ گیا کے لیے

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی