اعلیٰ شیعہ کمیشن کے سربراہ محمد علی اخلاقی نے اس ملاقات میں کہا کہ افغانستان کے اہلِ تشیع امارتِ اسلامی کی سرگرمیوں، بالخصوص وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کارکردگی، کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور آئندہ بھی اس وزارت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان میں طالبان عبوری حکومت کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وزیر نے افغانستان کے اعلیٰ شیعہ کمیشن وفد کے ساتھ ملاقات میں دینی اقدار کے فروغ، عوامی مسائل سننے اور اس کمیشن کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر محمد خالد حنفی نے ملاقات کے دوران کہا کہ بیرونی حلقے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور دنیا کے سامنے اسلامی نظام کی صحیح تصویر پیش کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام کے تمام ذمہ دار عوام کے خادم ہیں، جس کسی کو بھی حکومتی اداروں کے کام پر کوئی شکایت ہو، وہ براہ راست ہمارے پاس پیش کرے، ہم عوام کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔ خالد حنفی نے اعلیٰ شیعہ کمیشن کے وفد سے درخواست کی کہ وہ پہلے کی طرح وزارت امر بالمعروف کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ معاشرتی اصلاح کے اقدامات مزید مؤثر ہو سکیں۔

دوسری جانب افغانستان کی اعلیٰ شیعہ کمیشن کے سربراہ محمد علی اخلاقی نے اس ملاقات میں کہا کہ افغانستان کے اہلِ تشیع امارتِ اسلامی کی سرگرمیوں، بالخصوص وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کارکردگی، کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور آئندہ بھی اس وزارت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ افغان ریڈیو و ٹیلی ویژن کے مطابق اخلاقی نے کہا کہ یہ وزارت دینی اقدار کے فروغ اور معاشرتی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر طالبان حکومت کا ایک کلیدی ادارہ ہے، جس کی ذمہ داریوں میں دینی اقدار کا فروغ، سماجی رویوں کی اصلاح، اور مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں کی نگرانی شامل ہے۔ اقلیتی مذہبی گروہوں، خاص طور پر شیعہ رہنماؤں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی، طالبان کی جانب سے افغان سماج میں داخلی اتحاد پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ تصور کی جاتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن کے کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • علماء کا سرویکل کینسر سے بچاؤ کی مہم میں محکمہ صحت کے ساتھ تعاون کا اعلان 
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ