اہل تشیع کیساتھ دینی اقدار کے فروغ کے لئے تعاون برقرار رہیگا، افغان طالبان
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
اعلیٰ شیعہ کمیشن کے سربراہ محمد علی اخلاقی نے اس ملاقات میں کہا کہ افغانستان کے اہلِ تشیع امارتِ اسلامی کی سرگرمیوں، بالخصوص وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کارکردگی، کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور آئندہ بھی اس وزارت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان میں طالبان عبوری حکومت کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وزیر نے افغانستان کے اعلیٰ شیعہ کمیشن وفد کے ساتھ ملاقات میں دینی اقدار کے فروغ، عوامی مسائل سننے اور اس کمیشن کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی جاری رکھنے پر تاکید کی ہے۔ طالبان حکومت کے وزیر محمد خالد حنفی نے ملاقات کے دوران کہا کہ بیرونی حلقے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑا ہوا جائے اور دنیا کے سامنے اسلامی نظام کی صحیح تصویر پیش کی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی نظام کے تمام ذمہ دار عوام کے خادم ہیں، جس کسی کو بھی حکومتی اداروں کے کام پر کوئی شکایت ہو، وہ براہ راست ہمارے پاس پیش کرے، ہم عوام کے مسائل سننے اور ان کے حل کے لیے پرعزم ہیں۔ خالد حنفی نے اعلیٰ شیعہ کمیشن کے وفد سے درخواست کی کہ وہ پہلے کی طرح وزارت امر بالمعروف کے ساتھ تعاون جاری رکھیں تاکہ معاشرتی اصلاح کے اقدامات مزید مؤثر ہو سکیں۔
دوسری جانب افغانستان کی اعلیٰ شیعہ کمیشن کے سربراہ محمد علی اخلاقی نے اس ملاقات میں کہا کہ افغانستان کے اہلِ تشیع امارتِ اسلامی کی سرگرمیوں، بالخصوص وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی کارکردگی، کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور آئندہ بھی اس وزارت کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھیں گے۔ افغان ریڈیو و ٹیلی ویژن کے مطابق اخلاقی نے کہا کہ یہ وزارت دینی اقدار کے فروغ اور معاشرتی اصلاح میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر طالبان حکومت کا ایک کلیدی ادارہ ہے، جس کی ذمہ داریوں میں دینی اقدار کا فروغ، سماجی رویوں کی اصلاح، اور مذہبی و ثقافتی سرگرمیوں کی نگرانی شامل ہے۔ اقلیتی مذہبی گروہوں، خاص طور پر شیعہ رہنماؤں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی، طالبان کی جانب سے افغان سماج میں داخلی اتحاد پیدا کرنے کی کوششوں کا حصہ تصور کی جاتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امر بالمعروف و نہی عن المنکر کمیشن کے کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔