افغان طالبان کی سہولت کاری کے بغیر پاکستان پر حملے ممکن نہیں، ثبوت موجود ہیں، عطااللہ تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی سہولت کاری کے بغیر پاکستان پر حملے ممکن نہیں۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کا مطلب ہے کہ دہشتگرد شکست کھا چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کچہری کے باہر خودکش دھماکا، 12 افراد جاں بحق، متعدد زخمی
انہوں نے کہاکہ افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے تمام حملوں کے ثبوت پاکستان کے پاس موجود ہیں، یہ ممکن نہیں کہ افغان طالبان رجیم کی سہولت کاری کے بغیر یہاں حملے ہو سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی کے تانے بانے بھارت سے ملتے ہیں، تاہم دہشتگردی کے پیچھے موجود عناصر تک پہنچ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
انہوں نے کہاکہ بھارتی سرپرستی میں دہشتگردی کرنے والے گروہوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑےگا۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی ضلعی کچہری کے باہر خود کش دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد کچہری حملہ ’ویک اپ کال‘ قرار، ہم حالتِ جنگ میں ہیں، خواجہ آصف
اس کے علاوہ گزشتہ روز کیڈٹ کالج وانا میں خود کش حملہ ناکام بناتے ہوئے سیکیورٹی فورسز نے 2 دہشتگردوں کو ہلاک کردیا، جبکہ کالج کی عمارت میں موجود 3 دہشتگردوں کو محصور کرکے ان کے خلاف آپریشن جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسلام آباد دھماکا افغان طالبان دہشتگردی عطااللہ تارڑ وزیر اطلاعات وی نیوز.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام آباد دھماکا افغان طالبان دہشتگردی عطااللہ تارڑ وزیر اطلاعات وی نیوز افغان طالبان نے کہاکہ
پڑھیں:
طالبان کی ضد نے افغانستان کی معیشت ڈبو دی، کراچی کا راستہ بند ہونے سے اشیا کی لاگت دگنی ہوگئی
افغانستان کی معیشت، تجارت اور برآمدات طالبان حکومت کے غیر لچکدار فیصلوں اور غیر سنجیدہ حکمتِ عملی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہیں۔
افغان میڈیا آمو ٹی وی کے مطابق پاکستان کے ساتھ تجارتی راستوں کی مسلسل بندش اور متبادل مہنگے روٹس کے استعمال نے نہ صرف کاروباری طبقے کو بحران میں دھکیل دیا ہے بلکہ ملکی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کے لیے کراچی بندرگاہ ہمیشہ سے سب سے سستا، محفوظ اور تیز ترین تجارتی راستہ رہی ہے، جہاں کابل سے مال کی ترسیل صرف 3 سے 4 دن میں مکمل ہوتی ہے اور ایک کنٹینر کی اوسط لاگت 2,000 ڈالر بتائی جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران کے چاہ بہار پورٹ تک سفر 7 سے 8 دن میں مکمل ہوتا ہے جبکہ لاگت بڑھ کر تقریباً 4,000 ڈالر فی کنٹینر تک پہنچ جاتی ہے، یعنی کراچی کے مقابلے میں دوگنی ہوتی ہے۔
آمو ٹی وی کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے ذریعے افغان تجارت معطل ہے جس کے باعث ہزاروں کاروباری افراد بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
تاجروں کا کہنا ہے کہ موجودہ متبادل راستے—لیپس لازولی کارڈور یا شمالی تجارتی روٹس—نہ صرف طویل ہیں بلکہ کسٹم کارروائیوں اور فاصلوں کی وجہ سے لاگت میں کئی گنا اضافہ کر دیتے ہیں۔ روس اور بحیرہ اسود تک رسائی شمالی راستوں سے 15 سے 25 دن میں ممکن ہوتی ہے جسے تاجر غیر عملی قرار دیتے ہیں۔
ہوائی راہداری اگرچہ دستیاب ہے مگر اخراجات بہت زیادہ ہونے کے باعث برآمدات کے لیے مؤثر نہیں۔ ماہرین کے مطابق لاگت، وقت اور ترسیلی صلاحیت کے لحاظ سے کراچی بندرگاہ ہی افغانستان کے لیے اب بھی سب سے موزوں اور سستا روٹ ہے۔
تاجروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر پاکستان کے ساتھ سرحد جلد نہ کھلی تو سپلائی چین مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی، جس کا براہ راست اثر روزگار، کاروبار اور افغان معیشت پر پڑے گا۔
ماہرین کا مؤقف ہے کہ موجودہ بحران دراصل طالبان حکومت کی ہٹ دھرمی، علاقائی تناؤ اور مسلح گروہوں کی پشت پناہی کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے جس کا خمیازہ افغان عوام بھگت رہے ہیں۔