Express News:
2026-07-24@04:16:24 GMT

افغانستان اور دہشت گردی

اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے اگلے روز ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران واضح کیاہے کہ پاکستان نے کبھی کابل میں کسی بھی حکومت سے بات چیت سے انکار نہیں کیا، تاہم پاکستان کسی بھی دہشت گرد گروہ چاہے وہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ہو یا کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے مذاکرات نہیں کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان طالبان پاکستان مخالف تنظیموں کو معاونت فراہم کر رہے ہیں جب کہ طالبان نے پاکستان میں پشتون نیشنلزم کو ہوا دینے کی کوشش بھی کی۔ پاکستان میں پشتونوں کی تعداد افغانستان سے زیادہ ہے، لہٰذا پشتون شناخت کے نام پر پروپیگنڈا گمراہ کن ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی میں نمایاں اضافہ ہوا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے افغان طالبان رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تجارت کیسے اور کس سے کرنی ہے، یہ ہر ملک کا انفرادی فیصلہ ہوتا ہے، افغانستان کے ساتھ تجارت یا ٹرانزٹ ٹریڈ تبھی ممکن ہے جب وہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہوگا، تجارت انسانی جانوں کے ضیاع سے زیادہ اہم نہیں، وانا اور اسلام آباد حملوں میں ملوث افغان دہشت گردوں پر کابل حکومت کو جواب دینا ہوگا۔

افغانستان کے اقتدار پر قابض افغان طالبان جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا ہے۔ پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئی ہیں، ان میں کسی نہ کسی حوالے سے افغانستان اور افغان باشندے شامل رہے ہیں۔

پاکستان کے ساتھ مخاصمت کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی افغانستان نے پاکستان کے خلاف منفی پراپیگنڈہ اور جارحانہ اقدامات شروع کر دیئے تھے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کو تسلیم نہ کرنے سے لے کر ڈیورنڈ لائن کو متنازعہ بنانے تک، افغانستان کا وطیرہ چلا آ رہا ہے۔

پاکستان کے صوبے خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے وہ علاقے جو افغانستان کے ساتھ ساتھ ہیں، وہاں افغان حکومت نے منفی پراپیگنڈے کا آغاز قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی شروع کر دیا تھا۔

کبھی پشتونستان اسٹنٹ اور کبھی سرحد کے آرپار بسنے والے پشتونوں کو ایک بنا کر پیش کرنے کا پراپیگنڈہ بھی کیا گیا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ یہ پراپیگنڈے کسی بھی طرح پاکستان کی وحدت اور قومی یکجہتی کو توڑ نہیں سکے۔ سردار داؤد کے دور میں اس پراپیگنڈے میں بہت شدت آئی اور اس کے بعد بھی معاملات جوں کے توں ہی چلے آئے ہیں۔

افغانستان طویل خانہ جنگی کا شکار رہا ہے۔ اصولی طور پر تو افغانستان کی حکومتوں کو اپنے ملک کی عوام کی فلاح وبہبود اور تعمیر وترقی کے بارے میں منصوبہ بندی کر کے اس پر عملدرآمد کرانا چاہیے۔

لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی بھی افغان حکومت نے افغانستان کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام نہیں کیا بلکہ اپنی ناکامیوں اور کوتاہیوں اور کرپشن کو چھپانے کے لیے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کیا اور افغان عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ افغانستان کی غربت اور بدحالی کا ذمے دار پاکستان ہے۔

اسی دوران پاکستان سے ہٹ کر خصوصی طور پر پنجاب کو نشانہ بنانے کے امر کا آغاز ہوا۔ افغانستان اڑھائی لاکھ مربع کلومیٹر کا خاصا بڑا ملک ہے۔ اس ملک میں کئی نسلی گروہ اور ثقافتی گروہ آباد ہیں۔

ہر کی اپنی اپنی زبان اور رسم ورواج ہے۔ اس لیے افغانستان کسی ایک قبیلے، قوم یا برادری کا ملک نہیں ہے۔ اس میں چند بڑے لسانی اور ثقافتی گروہوں کے علاوہ بیسیوں چھوٹے چھوٹے قبیلے بھی صدیوں سے آباد چلے آ رہے ہیں۔

افغانستان میں سماجی ارتقاء کی رفتار بھی بہت سست رہی ہے۔ عالمی طاقتوں کی مداخلتوں نے اس ملک میں ترقی کا راستہ روکے رکھا ہے۔ بدقسمتی سے اس علاقے کے ہر گروپ کے اپنے اپنے مفادات رہے ہیں اور ہر گروپ اپنے اپنے مفادات کے لیے مختلف طاقتوں کے زیرنگیں رہا یا ان کے لیے آلہ کار کے طور پر کام کرتا رہا۔

بیسویں صدی کے وسط کے دوران افغانستان میں باقاعدہ حکومتوں کا سلسلہ چلا۔ اس دوران ایک دو شہروں میں خصوصاً کابل میں سماجی اور ثقافتی ارتقاء خاصا بلند رہا اور یہ شہر ایک خوشحال اور آزاد خیال طبقے کی نمائندگی کرتا رہا لیکن باقی افغانستان بدستور قبائلی نظام اور غربت کے شکنجے میں پھنسا رہا۔

کسی بھی حکومت نے کوئی ایسی منصوبہ بندی نہیں کی جس سے گراس روٹ لیول پر ترقی ممکن ہو سکے۔ اس لیے اس ملک میں کوئی حکومتی سسٹم ڈویلپ نہیں ہو سکا۔ جو تھوڑا بہت سسٹم موجود بھی تھا وہ افغان وار کے دوران ختم ہو گیا اور اس کے بعد رہا سہا انفراسٹرکچر باہمی خانہ جنگی کی نذر ہو گیا۔

اب طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے ہیں۔ پاکستان میں بہت سے حلقوں کا خیال تھا کہ طالبان کا تعلق چونکہ زمین سے ہے اس لیے وہ افغانستان کے عوام کی ترقی کے لیے زیادہ بہتر کردار ادا کریں گے۔

پاکستان میں بعض حلقوں کا یہ بھی خیال تھا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان میں بھارت کا اثرورسوخ کم ہو گا اور پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن یہ ساری توقعات وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتی گئیں۔

طالبان جب بگرام میں داخل ہوئے تو انھوں نے جیلیں کھول دی تھیں۔ ان جیلوں میں بند قیدی فرار ہو گئے تھے۔ حامد کرزئی اور اشرف غنی کے دورِ حکومت میں جو دہشت گرد گرفتار کر کے جیلوں میں ڈالے گئے تھے، انھیں طالبان نے رہا کر دیا۔

اشرف غنی انتظامیہ ان گرفتار دہشت گردوں کو پاکستان کے ساتھ بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرتی رہی۔ پاکستان کا مطالبہ رہا ہے کہ ایسے دہشت گرد جن کا تعلق پاکستان سے ہے، انھیں پاکستان کے حوالے کیا جائے لیکن اشرف غنی انتظامیہ بھی ڈبل گیم کر رہی تھی۔

اس نے انھیں بلیک میلنگ کے لیے جیلوں میں بند کیے رکھا لیکن جب امریکن فوجیں افغانستان سے نکلیں اور طالبان نے کابل کا اقتدار سنبھالا تو جیلوں میں بند ٹی ٹی پی کے تمام لوگوں کو رہا کر دیا گیا۔

اب یہی لوگ برسرعام پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کرا رہے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے لوگ افغانستان میں آزادانہ نقل وحرکت کر رہے ہیں، وہاں آزادانہ طور پر کاروبار کر رہے ہیں اور مختلف تقریبات کی صدارتیں بھی کر رہے ہیں۔

ان حقائق کے باوجود افغان طالبان کہتے ہیں کہ ہماری سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہو گی۔ اب طالبان کی عبوری حکومت نے پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

طالبان حکومت کی یہ غلط کیلکولیشن ہے کہ وہ تجارت بند کر کے شاید پاکستان کو معاشی طور پر کوئی نقصان پہنچا لیں گے۔ افغانستان کے ساتھ تجارت میں پاکستان کی کل برآمدات کا حصہ بہت معمولی نوعیت کا ہے۔

اس لیے پاکستان کو تجارت بند ہونے سے کسی قسم کا کوئی مالی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ افغانستان میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اشیاء پاکستان سے جاتی ہیں۔ پاکستان سے تجارت بند کرنے سے نقصان افغانستان کا ہی ہو گا۔

ویسے بھی افغانستان کی سرحد اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ یہ بلیک منی پاکستان میں بہت سے مسائل پیدا کر رہی ہے۔ اصولی طور پر تو پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر بند ہونا چاہیے۔

خاص طور پر پیدل اور روٹ ٹرانسپورٹ کے ذریعے پاکستان میں داخلے کی مکمل طور پر ممانعت ہونی چاہیے۔ تجارت بھی کرنی ہے تو وہ صرف قانونی تجارت ہونی چاہیے۔

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تجارت بند کرنے کا کبھی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی کبھی یہ کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کی حکومت کے ساتھ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مذاکرات نہیں کرے گا۔

افغانستان کی حکومت کو ایک ذمے دار حکومت کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ موجودہ عبوری حکومت کے اکابرین کو اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ افغانستان کی عوام کے نمایندہ نہیں ہیں۔

موجودہ عبوری حکومت ووٹ کے ذریعے اقتدار میں نہیں آئی ہے۔ افغانستان کی حکومت کو سب سے پہلے سسٹم کو ڈویلپ کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمسایوں کے ساتھ لڑائی جھگڑے سے معاملات حل نہیں ہوں گے اور نہ ہی افغانستان خوشحال ہو گا۔

افغانستان کے عوام کو اپنی نمایندہ حکومت کی ضرورت ہے۔ افغانستان کو جمہوریت کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے عوام کو ریاستی اور حکومتی اداروں کی ضرورت ہے۔ افغانستان کے عوام کو بہتر انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیز کی ضرورت ہے۔ جدید اسپتالوں کی ضرورت ہے لیکن طالبان کی حکومت ان امور کی جانب توجہ نہیں دے رہی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی ایک ایسے ملک کی نمائندگی کر رہی ہے جو پسماندگی کا شکار ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان میں دہشت گردی افغانستان کی حکومت افغانستان کے ساتھ افغانستان کے عوام افغانستان میں افغان طالبان کی ضرورت ہے پاکستان سے پاکستان کے دفتر خارجہ کر رہے ہیں جیلوں میں کہ طالبان حکومت نے کے لیے ا عوام کو کسی بھی نہیں کی لیے اس اس لیے کے بعد رہا ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار