افغانستان پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی کاروائیوں میں ملوث ہے، ثروت اعجاز قادری
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
چیئرمین پاکستان سنی تحریک نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی حکومت فوری طور پر افغان انتظامیہ کے ساتھ سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرائے، بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لے، اور سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں۔ اسلام ٹائمز۔ افغانستان بارہا یقین دہانیوں کے باوجود پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور اس کے ناقابلِ تردید شواہد پاکستان کے قومی سلامتی اداروں کے پاس موجود ہیں۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین پاکستان سنی تحریک انجینیئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی سرزمین پر معصوم شہریوں اور سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں افغان سرزمین کے استعمال کا سلسلہ ناقابلِ برداشت حد تک بڑھ چکا ہے، جو کھلی دشمنی اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے، اگر افغان حکومت نے اپنی سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کا خاتمہ نہ کیا اور بارڈر مینجمنٹ مثر نہ بنائی تو پاکستان اپنے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن سخت قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیاں اور جدوجہد پوری دنیا تسلیم کرتی ہے، اس کے باوجود افغانستان کی خاموشی اور چشم پوشی قابلِ مذمت ہے۔
ثروت اعجاز قادری نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کی حکومت فوری طور پر افغان انتظامیہ کے ساتھ سخت سفارتی احتجاج ریکارڈ کرائے، بین الاقوامی برادری کو اعتماد میں لے، اور سرحدی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مثر اقدامات کیے جائیں، پاکستان کے امن، استحکام اور قومی وقار کے خلاف کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، پاکستان نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعاون، خیرسگالی اور باہمی احترام کی پالیسی کو مقدم رکھا ہے، خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے فروغ کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ مثبت، ذمہ دارانہ اور اصولی رہا ہے، پاکستان کی قیادت کا مؤقف ہے کہ باہمی تعاون ہی خطے کو درپیش چیلنجز کے حل اور عوام کی فلاح و بہبود کی ضمانت ہے، پاکستان خطے میں امن اور پارٹنر شپ کو مضبوط بنانے کے لیے ہمیشہ تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستان کی کے لیے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی