جس نے بھی آئین دشمنی کی وہ نشان عبرت بن گئے‘مجاہدچنا
اشاعت کی تاریخ: 10th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251110-08-12
جیکب آباد (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی سندھ کے سیکرٹری اطلاعات مجاہد چنا نے کہا ہے کہ تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے بھی آئین دشمنی کی وہ نشان عبرت بن گئے، اتنی جلد بازی سے ترامیم کے ذریعے اداروں کے بجائے فرد واحد کو طاقتور بنانے سے ایسا لگ رہا ہے کہ ملک کو شہنشاہیت کی طرف دھکیلا جا رہا ہے اور عدلیہ کو ختم کیا جا رہا ہے، پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر کوئی بھی ترمیم نا ممکن ہے، آئین عمل درآمد کے لیے ہوتا ہے مگر ہر حکومت نے اپنی من پسند ترامیم کرکے اس کا حلیہ بگاڑا جا رہا ہے، سمجھ نہیں آرہا کہ ان کو اتنا خوف، ڈر کیوں ہے؟، یاد رکھیں کہ ایک اور اللہ کی عدالت بھی ہے، جماعت اسلامی27 ویں ترمیم کو قبول نہیں کرے گی، اس سے پہلے26 ویں ترمیم کی بھی مخالفت کی تھی، ملک میں جمہوریت کی بالادستی آئین و قانون کی حکمرانی کی دعویدار پارٹیاں جو ایکسٹینشن سے لے کر ان ترامیم کی مجبوری یا رضا خوشی سے حمایت کر رہی ہیں، بعد میں خود روئیں گی، تاریخ کسی کو بھی معاف نہیں کرتی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ پریس کلب کیمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی سندھ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ گوکہ ایکسٹینشن سے لے کر26 ویں ترمیم تک حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر تھے، اب بھی یہی کچھ ہونے جا رہا ہے، حالات ایسے پیدا کردیے گئے ہیں، بظاہر تو اپوزیشن کا تاثر ہی ختم ہو چکا ہے، تاہم اس کے باوجود اب یہ اپوزیشن، وکلا سمیت سول سوسائٹی کا امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک کی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت اسلامی و خوشحال پاکستان کے لیے اپنی جد و جہد جاری رکھے گی۔ 21 نومبر کو مینارپاکستان لاہور میں بدل دو نظام کے سلوگن کے تحت ہونے والا اجتماع عام ملک میں حقیقی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ دریں اثنا انہوں نے سینئرصحافی و کالم نویس ابو اسامہ سے ان کے چچا رفیق خان کی وفات پر تعزیت، مرحوم کی مغفرت، درجات بلندی اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی جا رہا ہے
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں