کاشف سعید شیخ سے ایس یو پی سربراہ سید زین شاہ کا رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251108-08-7
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید زین شاہ نے امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی مجوزہ 27 ویں آئینی ترمیم سمیت سندھ کو درپیش مسائل اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صوبائی اعلامیہ کے مطابق امیر جماعت اسلامی سندھ کاشف سعید شیخ نے کہا کہ جماعت اسلامی 27ویں ترمیم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ اس سے پہلے ہم نے 26ویں ترمیم کو بھی تسلیم نہیں کیا تھا۔آئین تعمیل کے لیے ہوتا ہے مگر ہرآنے والے حکمران نے چاہے وہ سول ہو یافوجی اپنے اقتدار کے نشے میں من مانی ترامیم کیں جس سے ملک وقوم مزید مسائل کا شکار ہوتے گئے، ہم سمجھتے ہیں کہ مجوزہ ترمیم بھی ملک وقوم کے مفاد میں کم شخصی حکمرانی کو فروغ دینے کے لیے ہے جوکہ ملکی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے جمہوری قوتوں کو مجوزہ 27ویں ترمیم کے خلاف بھرپور جدوجہد کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔